سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 135
رشدی سے موازنہ برونو کے مقدمہ کی رشدی کے ساتھ بھیانک طور پر مشابہت پائی جاتی ہے جہاں تک حدود کی قیود کے بغیر ادبی اسلوب بیان کا معاملہ ہے۔رشدی اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار آزادی سے کرے چاہے وہ کس قدر متنازعہ ہی کیوں نہ ہوں۔رشدی برونو کی طرح ہی روپوش ہوا تھا۔جیوڈار نو برونو نہ تو سائنسدان تھا اور نہ ہی عالم دین، ہاں اس نے سائنس اور مذہب میں مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی فلاسفی نے دین کے بنیادی اصولوں کو تہ و بالا کر دیا۔اس نے اپنے بارہ میں کہا کہ "اُس نے انسانی روح کو اور علم کو بھی آزاد کر دیا ہے۔قید خانے کی بند ہوا میں اس کا دم گھٹ رہا تھا، جب اس نے دورستاروں پر نگاہ ڈالی۔(Giordano Bruno, Ash Wednesday Supper, 1584) رشدی نے افسانے اور مذہب کو آپس میں ملانے کی کوشش کی اور اس کے فلسفہ نے بھی اسلامی عقائد کو سخ کر دیا۔اس نے بھی آزادی تقریر کی پورے جوش سے پشت پناہی کی۔برونو مذہبی تعلیمات سے بد کتا تھا کیونکہ اس کو دینی فرائض سے نفرت تھی۔جب وہ اٹھارہ سال کی عمر کا تھا تو اس نے تثلیت کے بارہ میں شبہ کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا۔اس کو مذہبی نشانات و علامات سے نفرت تھی خاص کر عیسائی بزرگوں کی تصاویر سے۔خدا کا تین ہونا اس کے فہم وادراک سے باہر تھا اور نہ ہی وہ خدا کا انسانی روپ میں ظاہر ہونا تسلیم کرتا تھا۔جب ڈومینیکن فرقہ والوں نے اس کے خلاف تکفیر کا مقدمہ دائر کر دیا تو وہ وہاں سے فرار ہو کر نیپلز چلا گیا۔اس نے اپنا عیسائی راہبوں والا نام تبدیل کر لیا اور مذہبی اطوار کو بھی خیر باد کہ دیا۔لیکن وہ خود کو غور و فکر کرنے والی دانشوری کی عادت سے آزاد نہ کر سکا۔وہ کہتا تھا کہ مجھے اپنے فلسفہ کا آزادی سے اظہار کرنے کا حق حاصل ہے اور اس نے اس کا استعمال بھی جی بھر کر کیا۔رشدی کی داستان بھی برونو سے کس قدر مشابہت رکھتی ہے! اس کا تعلق بھی ایک مسلمان گھرانے سے تھا لیکن بچپن سے ہی وہ محسوس کرنے لگا تھا کہ اسلامی اصول وضوابط اس کی جان پر بھاری بوجھ کی طرح تھے۔اس کا ثبوت اس کی اولین کتابوں سے ملتا ہے۔اس نے دین کی 135