سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 116 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 116

ڈاکٹر نذیر علی ڈاکٹر نذیر علی جو انگلستان میں پہلا ایشین نژاد بشپ تھا اس نے بھی اپنی کتاب Islam, A Christian Perspective میں لکیر کا فقیر بنتے ہوئے غلط رنگ میں شیطانی خیالات کو نبی پاک ﷺ سے منسوب کیا ہے۔ڈاکٹر علی اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ محمد ہ مقامی لوگوں میں اپنا پیغام قابل قبول بنانے کیلئے سمجھوتہ کرنے پر تیار ہو گئے۔وہ کہتا ہے: بالآخر انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اگر چہ محمد یہود و نصاری کی روایت کو برقرار رکھنا چاہتا تھا لیکن وہ پرانے روایتی عرب مذہب اور تہذیب کو بھی برقرار رکھنا چاہتا تھا ( شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اولاً تین دیویوں لات، منات اور العزیٰ کو اللہ کے ساتھ شفاعت کر نیوالی تسلیم کرنے پر تیار ہو گیا تھا۔بعد میں اس نے کہہ دیا کہ یہ آیت شیطان نے اس کے دل میں ڈال دی تھی اس لئے اسے حذف کر دیا)۔" (صفحات 25-24) منٹگمری واٹ اگر چہ پروفیسر واٹ اس نقطہ نظر کی تردید کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے قرآن خود اپنے دماغ سے لکھا تھا لیکن اس کے باوجود وہ بعض آیات کو مشکوک ٹھہراتا ہے۔ایسی آیات جن میں اس کے نزد یک بدلتی صورت حال کے پیش نظر ترمیم کر دی گئی تھی۔مثال کے طور پر وہ اپنی کتاب Muhammad at Medina میں ان ترمیم شدہ آیات کے بارہ میں لکھتا ہے : " ترمیم سے مراد ، اگر اس فعل کو یہ نام دینا ہی ہو ، الفاظ کا اضافہ یا الفاظ، جملوں اور لمبی عبارتوں کا حذف کیا جانا ہے۔محمد نے ممکن ہے یہ بات جان لی ہو کہ ایسی تبدیلیاں شاید خدا کی وحی میں تازہ حالات کے پیش نظر ترمیم کی صورت میں ہوں۔راسخ العقیدہ مسلمان ترمیم کو ایک حد تک صحیح جانتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض آیات منسوخ ہو چکی ہیں۔" (صفحہ 326) منٹگمری واٹ رسول کریم ﷺ کے جملہ ناقدین میں سے ایک پر جوش ناقد گنا جاتا ہے جس کی تحریر کا مشکوک طریق منہ میں کڑواہٹ کا مزہ چھوڑ جاتا ہے۔ذرا اس کے طرز تحریر کا شاطرانہ نمونہ ملاحظہ کریں جو وہ قرآن اور تاریخ کے واقعات کو سیاق وسباق سے الگ کر کے رسول اکرم 116