سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 115
میکسم روڈنسن (Maxime Rodinson) آئیے اب ذرا دیکھتے ہیں میکسم روڈ نسن نے کس رنگ میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔روڈنسن اپنی کتاب 'Mohammed' میں اس واقعہ کے بارہ میں لکھتا ہے " یہ ضرور حقیقت پر مبنی ہوگا کیونکہ مسلمان مؤرخین نے اس قسم کے واقعہ کا ہرگز اختراع نہ کرنا تھا جس سے ( محمد پر ہونیوالی ) وحی کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی "۔(صفحہ 106) وہ طبری کا حوالہ دیتا ہے جو کہ فرضی واقعات بنانے میں مشاق ہے: "جب رسول اللہ نے دیکھا کہ لوگ ان سے دور ہورہے ہیں تو آپ کو اس بات پر سخت دکھ ہوتا کہ اللہ کے کلام اور ان لوگوں میں کتنا بعد ہے جو وہ ان کے لئے لے کر مبعوث ہوئے ہیں۔پھر ان کے دل میں خواہش نے جنم لیا کہ ان پر ایسی وحی نازل ہو جس سے لوگ ان کے قریب ہو جا ئیں۔تب اللہ نے سورۃ النجم نازل کی " جب آپ اس آیت پر پہنچے: اَفَرَءَ يْتُمُ اللَّـتَ وَالْعُزَّى وَمَنوةَ الثَّالِثَةَ الأخرى '۔تو شیطان نے آپ کی زبان پر وہ الفاظ رکھ دئے جو آپ اپنے دل میں کہہ رہے تھے اور جن کو آپ عوام الناس کے پاس پہنچا دینا چاہتے تھے، یعنی : " اور یہ بڑی شان والی دیویاں ہیں جن سے شفاعت کی تم امیدرکھ سکتے ہو"۔بعد میں جبرائیل نے محمد پر یہ راز فاش کیا کہ شیطان نے آپ کو دھوکہ دیا ہے، اگر چہ جبرائیل نے تسلی دی کہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ اس سے پہلے انبیاء ان ہی مشکلات سے ان ہی وجوہ کی بناء پر دو چار ہوئے تھے۔زائد آیات کو خارج کر دیا گیا اور ان کی جگہ دوسری آیات رکھ دی گئیں جو اتین آبی پرندوں کے دین کو مسترد کرتی تھیں۔محمد کے تحت الشعور نے ان کو ایسی کیب سے آگاہ کیا جو اتحاد کے عملی راستہ کی طرف راہنمائی کرتا تھا"۔صفحات 107-106) میکسم روڈ نسن نے گزشتہ مستشرقین کی وضع کردہ حیرت انگیز کہانی کو لفظ بہ لفظ نقل کر کے نبی پاک ﷺ کی عام انسانی کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو وہ گزشتہ انبیاء کے برابر کی قرار دیتا ہے۔1- سورة النجم - 53:20 یعنی کیا تم نے لات اور عزمی کو دیکھا ہے؟ اور تیسری منات کو بھی جو (ان کے علاوہ ہے؟ ( پبلشرز ) 115