سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 117
کے کردار کا ناقص ہونا اپنی کتاب Islamic Fundamentalism and Modernity میں پیش کرتا ہے : " محمد کا ہر رنگ میں کامل ہونا تسلیم کیا جاتا ہے، نیز یہ کہ وہ کبھی بھی بت پرست نہ تھا با وجود یکه قرآن (93:7) اس کے خطا کار ہونے کا ذکر کرتا ہے ، اور بعض دوسرے ماخذوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مقامی بتوں کو قربانی بھی دی تھی۔محمد کے کامل انسان ہونے کے باعث زمانہ جدید کے مسلمان شیطانی آیات کے واقعہ کی تردید کرتے ہیں اگر چہ ممتاز مؤرخین اور مفسرین قرآن جیسے طبری اس کو تسلیم کرتے اور اس کا ثبوت قرآن کی آیت 22:52 سے بھی ملتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ایک موقعہ پر جب محمد اس امید سے تھا کہ قریش کے وہ لیڈر جو اس کے دشمن تھے ان کے دل جیتنے کیلئے شاید خدا سے وحی نازل ہو جائے ، شیطان نے وحی میں ایسی آیات شامل کر دیں جس سے اس کو اجازت مل گئی کہ وہ تین مقامی دیویوں سے شفاعت کی امید رکھ سکتا ہے۔محمد نے جانا کہ یہ آیت اصل وحی کا حصہ ہے چنانچہ جب اس نے ان کا اعلان کر دیا تو مکہ کے لیڈر بھی اس کے ساتھ اسلامی عبادت میں شامل ہو گئے۔بعد میں اس کو احساس ہوا کہ اس کو ان آیات کے بارہ میں غلطی لگ گئی تھی ، اس لئے اس نے ان میں ترمیم کر دی جس کے مطابق ان دیویوں کے ذریعہ شفاعت نہیں ہوسکتی تھی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مکہ کے سردار اس سے علیحدہ ہو گئے۔" (Islamic Fundamentalism & Modernity,pages 17-18 ) مسٹرواٹ اس واقعہ کا ذکر مزید تفصیل کے ساتھ اپنی ایک اور کتاب میں کرتے ہوئے کہتا ہے : " ایک موقعہ پر جب محمد مشرک تاجروں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور اس کو پوری امید تھی کہ ان کے دل جیتنے کیلئے اس پر ضر و روحی نازل ہوگی، فوراً اس پر درج ذیل وحی نازل ہونا شروع ہوگئی: أَفَرَءَ يْتُمُ اللَّتَ وَالْعُزَّى وَمَنوةَ الثَّالِثَةَ الْأخْرى - پھر اس کے بعد اس پر دو آیات نازل ہوئیں جس کے مطابق مسلمانوں کو اجازت مل گئی کہ وہ ان دیویوں سے کہیں کہ وہ ان کی جانب سے اللہ سے جوسب سے بڑا بت تھا ان کی شفاعت کریں۔بعد میں اس کو احساس ہوا کہ بعد والی آیات کو شیطان نے شامل کر دیا تھا اور وہ اصلی نہ تھیں۔" (Muslim-Christian Encounters, page 114) اپنے دعوئی کو مزید ٹھوس دار بنانے کیلئے پروفیسر واٹ کہتا ہے : " یہ واقعہ عیب سے منزہ ا۔سورۃ النجم - 53:20 ( پبلشرز ) 117