سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 114
مقصد حیات میں تن من دھن کی بازی لگادی۔جس نے بت پرستی کے ساتھ سمجھوتہ کی تمام پیش کشوں کو نفرت سے ٹھکرا دیا اور ہر قسم کی رشوت چاپلوسی خوشامد اور دھمکیاں اسے اپنے صح نظر سے ایک انچ بھی نہ ہٹا سکیں۔بت پرستی کے خلاف جس کے ناقابل شکن عزم پر اللہ تعالیٰ نے خودشہادت دی ہے۔(سورۃ الکھف 18:7) مزید یہ کہ اس دعویٰ کی بنیاد ہی غلط ہے۔نہ صرف یہ کہ بعد میں آنے والی آیات بلکہ تمام سورۃ بت پرستی کی مذمت اور خدا کی وحدانیت کے دلائل سے لبریز ہے۔عجیب بات ہے کہ یہ بین حقیقت رسول کریم ﷺ کے ناقدین اور عیب جوؤں کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔رسالت مآب صلى الله کی اس مزعومہ بھول چوک کی تاریخی شہادت بھی کوئی دستیاب نہیں۔چراغ ہدایت قرآن کریم کے تمام مفسرین جیسے ابن کثیر اور الرازی نے اس واقعہ کو نا قابل اعتبار قرار دیا ہے۔تمام مشہور مسلمان مفکرین جو علم حدیث کے مسلمہ ماہرین میں شمار کئے جاتے ہیں انہوں نے بھی اس کو اختراع قرار دیا ہے۔حدیث کی چھ کتابوں صحاح ستہ میں بھی اس واقعہ کا ذکر کہیں نہیں ملتا ہے۔امام اسماعیل بخاری کی کتاب صحیح بخاری جس کو سکالرز سب سے زیادہ معتبر کتاب تسلیم کرتے ہیں اور جو خود واقدی (من گھڑت واقعات کے موجد ) کے ہم عصر تھے انہوں نے بھی اس کا ذکر کہیں نہیں کیا۔نہ ہی نامور تاریخ دان ابن الحق جس کی پیدائش ان سے چالیس سال قبل ہوئی تھی انہوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔لیکن شقی القلب ناقدین اور اعداء اسلام کیلئے یہ ایک سنہری موقعہ تھا کہ وہ اپنی دروغ بیانی اور فریب کو حسب دستور کام میں لاتے ہوئے بانی اسلام پر اپنے کینہ پرور حملے جاری رکھ سکیں۔یہ ناقدین ہمیشہ اس کھوج میں لگے رہے ہیں کہ کسی طرح وہ شفیع محشر ﷺ سے غیر ارادہ ہونے والی خطا کو دریافت کر لیں، اور جب انہیں کوئی بھول چوک ڈھونڈے نہ ملتی تو وہ اپنی طرف سے ایک گھڑ کر اسے آپ سے منسوب کر دیتے۔اس کی ایک مثال زیر بحث واقعہ ہے۔کسی نامعلوم وجہ سے اس واقعہ نے بہت سے مستشرقین کو اپیل کیا اور انہوں نے اس کو اپنی کتابوں میں ہو بہو نقل کیا ہے۔اس واقعہ کا بعض مغربی مصنفین کا ذکرنا اور ان سب کا ایک ہی رنگ میں اس کا ذکر کرنا ، نیز رشدی نے شیطانی خیالات رکھنے کا الزام جس رنگ میں رسول اکرم ﷺ پر لگا یا ان جملہ امور کا قاری کے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔114