سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 113 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 113

بارہواں باب دی سٹینک ورسز کا افسانہ اب میں اسٹینک ورسزا کے نفس مضمون پر غائرانہ نظر ڈالوں گا یعنی کس طرح قریباً تمام مستشرقین نے اس دعویٰ کا اعادہ کیا ہے کہ رسول کریم الله عام انسانی کمزوریوں سے مبرا نہ تھے۔اور یہ کہ بعض مواقع پر آپ کے ذہن میں شیطانی خیالات داخل ہوئے جن کا بعد میں قرآن مجید کی بعض آیات کی صورت میں نزول ہوا۔سب سے زیادہ سورۃ النجم کی درج ذیل آیات کو پیش کیا جاتا ہے: اَفَرَءَ يْتُمُ اللتَ وَلْعُزَّى وَمَنوةَ الثَّالِثَةَ الْأخْرى۔(سورۃ النجم-21-53:20) ( ترجمہ ) پس کیا تم نے لات اور عزمی کو دیکھا ہے، اور تیسری منات کو بھی جو ( ان کے علاوہ ہے؟ رسول کریم علیہ کے بعض متعصب ناقدین نے عجیب و غریب کہانی گھڑی ہے کہ ایک دفعہ آپ شیطان کے نرغہ میں آگئے تھے۔کہا جاتا ہے کہ ایک روز مکہ میں جب آپ نے سورۃ النجم کی مسلمانوں اور کافروں کے رو برو تلاوت فرمائی تو تلاوت کے دوران شیطان نے آپ کی زبان پر یہ زائد الفاظ شامل کرنیکی کوشش کی : ( ترجمہ ) اور یہ بڑی شان والی دیویاں ہیں جن سے شفاعت کی تم امید رکھ سکتے ہو۔اس چیز کو وہ محمد کی بھول چوک اور بت پرستی کیساتھ سمجھوتہ قرار دیتے اور اس کا انحصار وہ واقدی کے بیان کردہ واقعہ پر رکھتے ہیں جو پکا مفتری اور واقعات کو گھڑ لینے والا تھا۔اس کا انحصار وہ مؤرخ طبری کی روایت پر بھی کرتے ہیں جو قابل اعتبار اور واقعات کو چھان بین کے بعد بیان کرنے والا تسلیم کیا جاتا ہے۔ان حضرات کی دیدہ دلیری ملاحظہ کیجئے کہ وہ خدا کی شان میں گستاخی والے ان کلمات کو اس عظیم بت شکن ( آنحضور ﷺ کے نام سے منسوب کرتے ہیں جس کی ساری زندگی بت پرستی کو غلط اور قابل مزمت قرار دینے میں گزری۔جس نے اپنے مشن اور 113