سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 103 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 103

یا پھر ممکن ہے کہ یہ کتابیں ایسے یورپین اور ان کے افراد خاندان کیلئے لکھی گئی تھیں جنہوں نے بھارت پر حکومت کی تھی اور جن کو ایشین زبانوں سے شناسائی اوسط درجہ سے زیادہ نہ تھی۔کچھ بھی ہو اس کے ناولوں کے پڑھنے والوں کی تعداد بڑی محدود در بنی تھی اور اسے کسی صورت میں بوکر پرائز جیتنے کا حقدار قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ہمیں تو ایسے آثار نظر آتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ رشدی کی شہرت ہر صورت میں بڑھائی گئی اور اسے قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔اسے شاید اس چیز کا علم تھا مگر اسے کسی چیز کی پرواہ نہ تھی جب تک کہ اس کو دنیا کے اعزازات ملتے رہیں اور اسے بیش بہا دولت کے وعدے دئے جائیں۔اس سے بھی بدترین چیز ابھی آنے والی تھی۔اس امر کی طرف اشارہ رشدی ان الفاظ میں کرتا ہے: " جبرائیل فنا ہونے والے اشخاص سے کلام نہیں کرتا۔۔۔میری کھوپڑی میں آنیوالی صدائیں ان فرشتوں سے بہت زیادہ تھیں میری صدا میں مقدس ہونے کی بجائے فحش ثابت ہوئیں ، اور اتنی کثیر تعداد میں جتنے مٹی کے ذرے لیکن میں نے صبر کی تلقین کی۔ذرا انتظار کرو مجھے اتنی جلدی نظر انداز نہ کر دو۔(صفحہ 166) Shame رشدی کا تیسرا ناول جو 1983ء میں منظر عام پر آیا، اس کا عنوان بہت موزوں تھا ، یہ ایک نمایاں صفت کی طرف اشارہ کر رہا تھا جس کی خود اس میں خاصی کمی تھی۔جب ہم اس کے اس سے پہلے کے ناولوں کا مطالعہ کرتے ہیں ، خاص طور پر رسوائے زمانہ ادی سٹینک ورسز' کے زوال کے بعد کا ، تو ہم اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس نے کتنی بار غلط کاموں میں ٹانگ اڑائی اور کسطرح اس کی کتابوں کے خلاف رد عمل رونما ہوا۔اس کی ایک نمایاں مثال اس ناول کے صفحہ 39 پر ملتی ہے: " چاہے انسان ایک ملک سے کس قدر عزم کے ساتھ انخلاء کرے، انسان اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ سامان لیکر جاتا ہے، اور اس میں کیا شک ہے کہ عمر خیام۔۔۔جب اس پر شرم محسوس کرنے کی پابندی عائد کر دی گئی۔۔۔اوائل عمر سے ہی، اس عجیب پابندی کا اثر وہ اپنی زندگی کے آخری سالوں تک محسوس کرتا رہا۔103