سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 104
عمر خیام ( جو اس ناول کا مرکزی کردار ہے ) کی تکلیف دہ صورتحال آخر کار خود رشدی پر لاگو ہو گئی۔سلمان رشدی ایک ملک سے فرار ہو کر دوسرے ملک ایک خوفزدہ گیدڑ کی طرح چھپتا پھرا۔اس کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے کئے پر ذرا بھی پشیمان نہ تھا۔اس ناول میں بھی ہر وہ چیز جو اسلامی ہے اس پر اس نے مجرمانہ حملہ کیا ہے۔مثلاً اس نے اسلامی طرز عبادت کو نشانہ استہزاء بنایا ہے: " محمد عباداللہ ، جس کے ماتھے کے اوپر گئے یا داغ کا نشان تھا اور جو اس بات کی نشانی تھا کہ وہ کٹر مذہبی انسان ہے، وہ دن میں پانچ مرتبہ جائے نماز پر ماتھا یکتا تھا، اور شاید چھٹی مرتبہ بھی جوفلی تھا "۔(صفحہ 42-41) دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور عام مسلمانوں کیلئے یہ معمول کی بات ہے لیکن رشدی اس عمل کو ایک کٹر مذہبی شخص کی نشانی بتلاتا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ رشدی اسلام سے کس قدر برگشتہ ہو چکا ہے اور اس کو اسلام سے کس قد رنفرت ہے۔پاکستان کیلئے اس کی نفرت اس وقت نمایاں ہو جاتی ہے جب وہ بڑی مسرت کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ 'Shame' ایک افسانوی ناول ہے مگر وہاں جو کچھ سیاست میں عملاً ہو رہا تھا اور پاکستان کے عمومی طرز زندگی پر اس کو اظہار خیال کر نیکی چنداں ضرورت نہ تھی۔وہ احمقانہ طریق سے اپنے ارادوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے جو سب پر عیاں ہیں۔مثلاً وہ لکھتا ہے (صفحہ 70-69): اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ ایک حقائق پر مبنی ناول تھا ، ذرا سوچیں میں اس میں اور کیا کچھ لکھ سکتا تھا، مثلاً ڈیفنس ( کالونی) کے امیر ترین باسیوں کا زمین دوز پانی کے پمپوں کا لگا لینا جو پانی کی مین پائپ سے اپنے ہمسایوں کا پانی چراتے ہیں اور کیا میں نے کراچی کے سندھ کلب کا بھی ذکر کرنا تھا جہاں ایک سائن ابھی تک لگا ہوا ہے کہ عورتوں اور کتوں کا اس سے آگے داخلہ ممنوع ہے؟ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کا پھانسی لگایا جانا یا پھر یہودیوں کے خلاف نفرت۔۔۔یا پھر سمگلنگ کا کاروبار، ہیروئین کی نشہ آور کی برآمدات کی شدت ، ملٹری ڈکٹیٹرز ، ضمیر فروش شہری، رشوت خور سول سرونٹ ، اور بکاؤ جج حضرات " اور اس کے بعد وہ طنزیہ طور پر بات کو یوں ختم کرتا ہے: "ذرا میری مشکلات کا اندازہ لگائیں "۔رشدی نے چکنی چپڑی باتیں کرنے کی کوشش کی ہے اور پاکستان کیلئے دوٹوک نفرت اور۔۔۔۔104