سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 102
موضوعات پر جیسے مذہب اور سیاست پر اپنے نظریات کا پر چار کر سکتا تھا یا ان لوگوں کے نظریات کا جو اسے پیسے دے رہے تھے۔امڈ نائیٹس چلڈرن' میں رشدی نے رشوت خور پاکستانی حکومت کے خلاف ایک سیاسی جام دینے کی کوشش کی ہے۔مغرب کی خوشی کیلئے اس نے ہر اس چیز کو جو پاکستانی سیاست میں بری تھی اسے بے نقاب کرنیکی کوشش ہے۔لیکن اس سیاسی پیغام پر مکمل طور پر اظہار خیال اس کے اگلے پیغام ناول شیم (Shame ) میں کیا گیا ہے۔جیسا کہ اس کے پہلے ناول پر بحث کرتے ہوئے ذکر کیا گیا اس کی قسمت سر بمہر ہو چکی تھی۔اس کی تحریروں میں اس کا زوال مضمر تھا۔اسی طرح مڈ نائیٹس چلڈرن میں بھی اس کے نصیب کا مقدر کتاب کے آخری الفاظ میں لکھا جا چکا تھا جو ایک رنگ میں مصنف کی قبر کا مناسب کتبہ بھی ہوسکتا تھا: "ہاں وہ مجھے پاؤں تلے روند دیں گے۔۔۔مجھے بے آواز مٹی کا مہین ذرہ بنا دیا جائیگا کیونکہ یہ مڈ نائیٹس چلڈرن پر لعنت ہے کہ وہ اپنے دور کے آقا اور آفت رسیدہ بھی ہوں، وہ اپنی پرائیویٹ زندگی کھو دیں، کہ وہ ہجوم کے فنا کر دینے والے گرداب میں پھنس کے رہ جائیں اور امن کے ساتھ نہ تو وہ زندہ رہ سکیں اور نہ ہی مرسکیں۔" (صفحہ 446) کتنی سر درحمی کے ساتھ یہی حالت سلمان رشدی کی ہوگئی تھی۔ایسے لگتا تھا کہ اس نے گویا اپنی قبر خود ہی کھود لی تھی۔رشدی کی کتاب کے اس موازنہ سے قاری خود اندازہ کر سکتا ہے کہ کس طرح رشدی کو طویل المیعاد منصوبہ کے تحت زبر دست قابلیت والا مصنف بنا کر پیش کیا گیا۔اسے شہرت کے بام پر متعدد لٹریری ایوارڈ دے کر پہنچا دیا گیا بشمول فکشن کے سب سے بڑے ایوارڈ' بوکر پرائز فار لٹریچر ا لیکن جب آپ اس کی کتابوں کا عمیق مطالعہ کرتے ہیں تو انسان حیرانگی کا مجسمہ بن کر پوچھتا ہے کہ یہ کتا بیں کسی طبقہ کیلئے لکھی گئی تھیں؟۔یقینا یہ مغربی قاری کے فائدہ کیلئے نہیں لکھی گئی تھیں کیونکہ کتابوں میں ہندی اور اردو الفاظ کی اس قدر بھر مار ہے کہ کوئی بھی ان زبانوں کے علم کے بغیر ان کی اہمیت کو سمجھ نہیں سکتا۔مثلاً اسب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے، گائے والا ، کچھ نہیں اوغیرہ۔ہر دوسرا صفحہ ہندی الفاظ کے ساتھ بھرا ہوا ہے، اور اگر قاری کو ان کے معنی جاننے کیلئے ہر دفعہ ڈکشنری کا سہارا لینا پڑے تو ناول بڑی مشکل سے ختم ہو پائیگا۔102)