سیر روحانی — Page 781
کہ دیکھ کل رات کو میں اپنے باپ سے ہم بستر ہوئی آؤ آج رات بھی اُسکو ئے پلائیں اور تو بھی جا کے اُس سے ہم بستر ہو کہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں۔سو اُس رات کو بھی انہوں نے اپنے باپ کوئے پلائی اور چھوٹی اُٹھ کے اس سے ہم بستر ہوئی اور اُس نے اُس کے لیٹتے اور اُٹھتے وقت اُسے نہ پہچانا۔سولو ط کی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں اور بڑی ایک بیٹا جنی اور اُس کا نام موآب رکھا وہ موابیوں کا جواب تک ہیں باپ ہوا اور چھوٹی بھی ایک بیٹا جئنی اور اس کا نام بنی کمی رکھا۔‘۳۲ قرآن کریم کا اعلان برتیت یہ وہ گندی تاریخ ہے جو دُنیا کے کتب خانوں نے پیش کی اور جسے پڑھ کر شریف انسان کا دل لرزنے لگ جاتا ہے مگر جب قرآنی کتب خانہ کو دیکھا جائے تو ہمیں اس میں یہ لکھا ہوا نظر آتا ہے وَلُوطاً آتَيْنَهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّيْنَهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِى كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبَثِتَ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَسِقِينَه وَاَدْخَلْنَهُ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُ مِنَ الصَّلِحِينَ۔٣٣ یعنی ہم نے لوط کو حکم دیا اور علم بھی اور ہم نے اُس کو ایسی بستی سے نجات دی جو نہایت ہی گندے کام کرتی تھی گویا بائبل تو کہتی ہے کہ اپنی بستی سے نکل کر خود لوط علیہ السلام نے ہی گندے کام کرنے شروع کر دیے تھے اور قرآن کریم کہتا ہے کہ لوظ کی قوم فسق و فجور میں مبتلاء تھی ٹوٹ کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا تھا اور وہ ہمارے نیک بندوں میں سے تھا۔اس طرح قرآن کریم نے تاریخ انبیاء بھی بیان کر دی اور بائبل میں جو جھوٹی باتیں داخل ہوگئی تھیں اُن کا بھی رڈ کر دیا۔ہاں قرآن کریم نے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کے متعلق یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ عذاب کا شکار ہو گئی تھی چنانچہ فرماتا ہے فَنَجَّيْنَهُ وَأَهْلَةٌ أَجْمَعِينَ إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَبِرِينَ ٣٢ یعنی ہم نے لوظ کو اور اُس کے تمام اہل کو بچا لیا تھا سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو غابرین سے تھی۔غیر کے معنی عربی زبان میں حقد یعنی کینہ کے ہوتے ہیں۔۳۵ پس یہ لفظ استعمال کر کے قرآن کریم نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی میں بڑھیا ہونے کے باوجود ناجائز شر باقی تھا اور وہ آپ کے متعلق کینہ اور بغض رکھتی تھی۔اس کا تعلق اُن لوگوں کے ساتھ تھا جو حضرت لوط علیہ السلام کے مخالف تھے اس لئے وہ عذاب سے نہ بچائی گئی۔۳۴