سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 782 of 900

سیر روحانی — Page 782

۷۸۲ اب دیکھو! حضرت لوط علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں لیکن قرآن کریم اُن کی براءت کرتا ہے۔گویا دادا تو وہ کسی اور قوم کا ہے لیکن اُس کی طرف سے لڑائی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہیں۔حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے اور عرب اپنے آپ کو حضرت اسماعیل کی نسل قرار دیتے تھے۔حضرت لوط سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا لیکن یہودی قوم کا حضرت لوط علیہ السلام سے قریبی رشتہ ہے مگر انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام پر الزام لگا دیا اور کہا وہ بد کا رتھا لیکن قرآن کریم نے کہا کہ حضرت لوط علیہ السلام ایک بزرگ اور خدا رسیدہ انسان تھے اور اُن پر یہ محض جھوٹا الزام لگایا گیا ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام کی عزت کی حفاظت پھر قرآن کریم نے حضرت داؤد علیہ السلام کی عزت کی بھی حفاظت کی تھی۔آپ پر بھی بائبل یہ نہایت گندہ الزام لگاتی ہے کہ آپ نے (نعوذ باللہ ) اور یاہ کی بیوی کے ساتھ زنا کیا اور اور یاہ کو جنگ میں بھجوا کر مروا دیا اور پھر اس سے شادی کر لی چنانچہ اس میں لکھا ہے : - ایک دن شام کو ایسا ہوا کہ داؤد اپنے بچھونے پر سے اُٹھا اور بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور وہاں سے اُس نے ایک عورت کو دیکھا جو نہا رہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی تب داؤد نے اس عورت کا حال دریافت کرنے کو آدمی بھیجے۔انہوں نے کہا۔کیا وہ العام کی بیٹی بنت سبع۔حتی اور یاہ کی جورو نہیں ؟ اور داؤد نے لوگ بھیج کے اس عورت کو بلا لیا چنانچہ وہ اس کے پاس آئی اور وہ اُس سے ہم بستر ہوا۔۳۶ لیکن قرآن کریم نے بائبل کے اس الزام کی تردید کی ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام کو نیک اور خدا تعالیٰ کا پاک بندہ قرار دیا ہے چنا نچہ فرماتا ہے وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُدَ ذَا الْاَيْدِ : إِنَّةٌ أَوَّابٌ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَابٍ ۳۸ یعنی ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو۔جو بڑی طاقت کا مالک تھا۔اور خدا تعالیٰ کی طرف بار بار جھکتا تھا۔وہ ہمارا مقرب تھا اور اُسے ہمارے پاس بڑا اچھا ٹھکانہ ملے گا۔ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیارا بندہ ایسے ظالمانہ افعال کا مرتکب نہیں ہو سکتا جو بائبل بیان کرتی ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ بائبل جس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اسی طرح