سیر روحانی — Page 773
اور بتا تا ہوں کہ باوجود اس کے کہ دنیا میں بہت سی تاریخ کی کتابیں موجود ہیں پھر بھی قرآن کریم نے جو تاریخ پیش کی ہے اس کی مثال دنیا کی کوئی تاریخی کتاب پیش نہیں کر سکتی۔تاریخ وحی و رسالت اس بارہ میں میں سب سے پہلے تاریخ وحی و رسالت کو لیتا ہوں۔قرآن کریم نے اصولی طور پر یہ بات بیان کی ہے کہ اِنْ مِنْ أُمَّةٍ } إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ۔" یعنی دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہدایت دینے والا نہ آیا ہو۔اِسی طرح فرماتا ہے وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۔۱۵ ہر ایک قوم میں کوئی نہ کوئی ہادی گزرا ہے۔نذیر کے معنے نبی کے بھی ہوتے ہیں اے مگر نذیر کے لغوی معنے ڈرانے والے کے ہوتے ہیں۔یعنی جب قوم سوئی ہوتی ہے تو وہ انہیں آ کر ہوشیار کرتا ہے۔اس کے معنے زیادہ تر ریفارمر (REFORMER ) کے بھی سمجھے جا سکتے ہیں۔مگر ہادی کے معنوں میں نبوت زیادہ واضح ہے اور یوں قرآنی محاورہ کے مطابق بھی اور لغت کے لحاظ سے بھی نذیر کے معنے نبی کے بھی ہوتے ہیں۔غرض قرآن کریم نے بتایا ہے کہ دنیا کی ہر قوم میں کوئی نہ کوئی نبی یا کم از کم کوئی ریفارمر ضرور آیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں حضرت کرشن اور رام چندر جی کو نبیوں کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے اور ان کا نام اوتار رکھا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ كَانَ فِي الْهِنْدِ نَبِيًّا أَسْوَدُ اللَّوْنِ اِسْمُهُ كَاهِناً علے یعنی ہندوستان میں ایک سیاہ فام نبی گزرے ہیں جن کا نام کنہیا یعنی کرشن تھا۔اب دیکھو کہ ہندو کہتے ہیں کہ مسلمان ہمارے دشمن ہیں لیکن قرآن کہتا ہے وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ہندوستان میں بھی ہمارے بعض بزرگ بندے گزرے ہیں۔اور جب ہندوستان میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بھائی گزرا ہے تو اُس کی اولاد کے ہم دشمن کیسے ہو سکتے ہیں۔مسلمان ہرگز ہندوؤں کے دشمن نہیں کیونکہ ہند و حضرت کرشن اور رام چندر جی کی اولاد ہیں۔یا کم سے کم اُن کی اُمت ہیں اور اُن کے ماننے والے ہیں اور ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔۱۸ پس کرشن اور رام چندر جی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھتیجوں کے ہم دشمن کیسے ہو سکتے ہیں۔جو لوگ ہمارے آقا کے بھیجے ہونگے نہ ہمارا آقا اُن کا دشمن ہوگا اور نہ ہم اُن کے دشمن ہو نگے۔یہ محض غلط فہمی اور ضد ہے ورنہ مسلمان جو قرآن کریم سمجھتا ہے وہ نہ کسی ہندو کا دشمن ہوسکتا ہے اور نہ