سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 772 of 900

سیر روحانی — Page 772

۷۷۲ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت یوسف کے مثیل ہیں۔چنانچہ جب آپ نے مکہ فتح کیا اور آپ کے سامنے وہ تمام مجرم پیش ہوئے جنہوں نے آپ کو مکہ سے نکال دیا تھا اور وہ تیرہ سال تک آپ پر اور آپ کے صحابہ پر بے انتہاء ظلم کرتے رہے تھے تو آپ نے اُن سے پوچھا کہ بتاؤ اب تم سے کیا سلوک کیا جائے ؟ تو وہ لوگ گو آپ کے منکر تھے لیکن قرآن کریم سُن سُن کر اُن کو اتنا پتہ لگ گیا تھا کہ آپ مثیل یوسف بھی ہیں۔چنانچہ انہوں نے کہا۔آپ ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا اور چونکہ آپ مثیل یوسف تھے اس لئے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا کہ جاؤ میں تم سب کو معاف کرتا ہوں ، اسی طرح آپ نے بھی مشرکین مکہ سے فرمایا کہ لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ا آج تم پر کسی قسم کی گرفت نہیں۔گویا آپ نے عملاً وہی مثال پیش کی جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے معاملہ میں پیش کی تھی۔حالانکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی تو اُن کے باپ کی نسل میں سے تھے لیکن مکہ والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ کی نسل میں سے نہیں تھے اور نہ ہی اُن سے آپ کا دودھ کا کوئی تعلق تھا۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صرف حضرت یوسف علیہ السلام کے مثیل ہی نہیں تھے بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر تھے۔صرف مثال کے طور پر چند مثالیں پیش کی گئی ہیں ورنہ حقیقتا آپ سب انبیاء کے مثیل تھے۔آپ مثیل آدم بھی تھے کیونکہ آپ کے ذریعہ ایک نئی نسل چلی۔حضرت آدم علیہ السلام کو صرف اتنی فضیلت حاصل ہے کہ اُن کے ذریعہ سے اور بشر پیدا ہوئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے آدم ہوئے کہ آپ کے ذریعہ سے ایک ایسی نسل چلی جو تمام انسانوں سے ممتاز تھی جیسے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد تمام جانوروں سے ممتاز تھی۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ دین تھا جو دین فطرت تھا اور آپ کو ایسی تعلیم ملی تھی جس میں ساری دنیا کے ساتھ حسن سلوک کا حکم تھا۔اسی طرح آپ مثیلِ نوح بھی تھے کیونکہ آپ کی قوم پر بھی ایسا طوفان آیا جیسے نوح علیہ السلام کی قوم پر آیا تھا اور اس سے وہی بچے جو آپ کی کشتی میں بیٹھے تھے۔تاریخی نقطۂ نگاہ سے قرآنی کتب خانہ پر نظر اب میں کتب خانوں کی مناسبت سے سب سے پہلے تاریخ کو لیتا ہوں