سیر روحانی — Page 764
۷۶۴ بتا دیا کہ ہمیں ڈپٹی کمشنر صاحب نے یہ یہ باتیں بتائی ہیں۔چنانچہ دوسرے دن ہندوؤں کا ایک وفد میرے پاس آیا اور اُس نے شکایت کی کہ صاحب! ہم تو آپ کو اپنا مائی باپ کہتے ہیں آپ مائی باپ ہوکر مسلمانوں کو ہمارے خلاف کرنے لگے ہیں۔اسپر میں اتنا شرمندہ ہوا کہ اس کی حد نہیں اس کے بعد جب میں لاہور آیا تو یہاں یہ حالت تھی کہ اس فساد کی وجہ سے ایک بڑے لیڈر کومسلمانوں نے میرے پاس بھجوایا کہ تم جا کر ڈپٹی کمشنر کو بتاؤ کہ مسلمانوں پر سختی ہو رہی ہے مجھے پتہ لگ گیا کہ مسلمان فلاں شخص کو میرے پاس بھیج رہے ہیں لیکن جب وہ میرے پاس آئے تو کہنے لگا۔میں نے فلاں رشتہ دار کی سفارش آپ کے پاس کی تھی وہ کام ابھی ہوا ہے یا نہیں ہوا اور اُدھر میلا رام کے بیٹے رام سرن داس نے اپنی مِل کے متعلق مجھ سے وقت لیا ہوا تھا وہ ملنے آیا تو میں نے کہا۔سُنائیے رائے صاحب آپ کی میل کا کیا حال ہے؟ تو اُس نے پگڑی اُتار کر میرے پاؤں پر رکھ دی اور رونے لگ گیا اور کہنے لگا۔میری قوم تباہ ہورہی ہے اور آپ میری مل کا حال پوچھ رہے ہیں۔اب دیکھو! مسلمانوں نے اس فساد کے سلسلہ میں اپنے لیڈر کو میرے پاس بھیجا تو بجائے اپنا اصل مقصد بیان کرنے کے وہ مجھ سے کہنے لگا میں نے ایک شخص کی آپ کے پاس سفارش کی تھی اُس کا کیا بنا؟ اور اِدھر وہ ہند و جس نے فساد سے پہلے کا وقت مقرر کیا ہوا تھا وہ آیا اور میں نے دریافت کیا کہ رائے صاحب! آپکی مل کا کیا حال ہے تو اُس نے پگڑی اُتار کر میرے پاؤں پر رکھدی اور رو کر کہنے لگا کہ میری قوم تباہ ہورہی ہے اور آپ میری مل کا حال پوچھ رہے ہیں۔مل کیا چیز ہے اسپر قوم مقدم ہے۔تو اُس ڈپٹی کمشنر نے خانصاحب ذوالفقار علی خان صاحب سے کہا کہ جب یہ حال ہے تو میں کیا کروں۔میں نے مجبوراً ہندوؤں کی مدد کی ہے کیونکہ ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہمارا بچاؤ ہو۔وہ ڈپٹی کمشنر ہم سے بعد میں بھی تعلق رکھتا رہا چنانچہ ۱۹۳۴ء میں احرار کے فتنہ کے وقت جب مجھے نوٹس دیا گیا کہ تم نے باہر سے احمدیوں کو نہیں بلوانا تو چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے سُنایا کہ وہ اپنی کوٹھی سے آ رہا تھا کہ اُس نے مجھے دیکھ کر ٹھہرا لیا اور کہنے لگا سُناؤ قادیان کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا۔ہمیں سخت افسوس ہے ہم نے اگر کچھ کیا ہوتا اور پھر ہمارے امام کو گورنمنٹ نوٹس دیتی تو کوئی بات تھی لیکن ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ، ہمارے امام کو کیوں نوٹس دیا گیا ہے؟ اس پر وہ غصہ میں آگیا اور کہنے لگا میں نہیں جانتا جس جماعت نے چالیس سال گورنمنٹ کی خدمت کی ہے اُس نے اگر کچھ کیا بھی ہوتا تب بھی یہ نوٹس نہیں دینا چاہئے تھا، یہ گورنمنٹ کی غلطی ہے۔بعد میں وہ وائسرائے