سیر روحانی — Page 765
کے ملٹری سیکرٹری ہو کر چلے گئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔غرض اُس زمانہ میں عملی طور پر ہندوؤں کی ہی حکومت تھی۔جب کشمیر میں فسادات ہوئے تو اُسوقت لارڈ ولنگڈن وائسرائے تھے۔میں کشمیر کمیٹی بنانے کے بعد اُن سے ملا تو میں نے اُن سے کہا آپ کشمیر میں دخل کیوں نہیں دیتے ؟ وہ کہنے لگے دخل کیوں دیں آپ نہیں جانتے اگر ہم نے دخل دیا تو کشمیر کا راجہ کتنا ناراض ہو گا۔اُس وقت حیدر آباد میں انگریز افسر مقرر تھے میں نے کہا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہندوؤں کے خیر خواہ ہیں۔حیدر آباد میں جہاں ایک مسلمان حکمران ہے آپ نے انگریز افسر بھجوائے ہوئے ہیں مگر کشمیر میں جہاں ایک ہندو راجہ ہے آپ نے کوئی انگریز افسر نہیں بھجوایا۔اس پر وہ اور باتیں کرنے لگ گئے۔بہر حال گو بھارت کی حکومت حال ہی میں قائم ہوئی ہے لیکن انگریزوں کے زمانہ میں بھی اصل حاکم بھارت ہی تھا اور وہ ہر جگہ قابض تھا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نورانی کرن کا ظہور غرض اس سفر میں ایک طرف تو مسلمانوں کی گزشتہ شان و شوکت کے تمام آثار میری آنکھوں کے سامنے تھے اور دوسری طرف مجھے مسلمانوں کی موجودہ بے کسی اور انتہائی بے بسی دکھائی دے رہی تھی۔میں اِن حالات پر خاموشی سے غور کرنے لگا اور سوچتا رہا اور کافی دیر خاموش کھڑا رہا۔میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم نے مجھے آواز بھی دی کہ اب دھوپ تیز ہوگئی ہے واپس آجائیں مگر میں اپنے خیالات میں ہی محور ہا۔آخر میں نے کہا۔میں نے پا لیا۔میں نے پالیا۔“ میری لڑکی امتہ القیوم بیگم کہنے لگیں۔ابا جان! آپ نے کیا پا لیا ؟ میں نے کہا۔میں نے جو پانا تھا وہ پالیا۔اُس وقت خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ یہ تمام آثار قرآن کریم میں زیادہ شان کے ساتھ موجود ہیں۔تمہیں ان آثار قدیمہ پر افسوس کرنے کی ضرورت نہیں قرآن کریم میں جو آثار قدیمہ پائے جاتے ہیں اُن کے سامنے ان آثار قدیمہ کی کچھ بھی وقعت نہیں۔میری لڑکی نے کہا۔آپ مجھے بھی بتائیں کہ آپ نے کیا پا لیا مگر میں نے کہا۔میں اسوقت تمہیں نہیں بتاؤں گا جلسہ سالانہ کے موقع پر میں ساری جماعت کو بتاؤں گا وہاں تم بھی سُن لینا۔چنانچہ ۱۹۳۸ء کے جلسہ پر میں نے ”“ کے موضوع پر پہلا لیکچر دیا تھا اور اب یہ اس سلسلہ کی آخری تقریر ہے۔جب میں نے اس سلسلہ تقاریر کو شروع کیا تو اُس وقت میں