سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 763 of 900

سیر روحانی — Page 763

۷۶۳ مسلمان کسی وقت کتنے طاقتور تھے اور اسوقت وہ کتنے کمزور اور ناتواں ہیں۔یہ ۱۹۳۸ء کی بات ہے جبکہ ابھی انگریز حاکم تھے ، بھارت کی حکومت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی ، مگر انگریزوں نے غدر کے واقعات سے دھوکا کھا کر مسلمانوں کو ذلیل کرنا شروع کر دیا تھا اور عملی طور پر ہندوستان کے بادشاہ ہندو تھے۔میرے دل پر اس کا بڑا اثر تھا میں ایک دن سیر کرنے کے لئے نکلا تو غیاث الدین تغلق کے مقبرہ کے سامنے ایک ٹیلہ تھا، میں اپنی بیوی، بہن اور لڑکی کولے کر اُس ٹیلہ پر چڑھ گیا۔وہاں سے لال قلعہ بھی نظر آتا تھا، فیروزشاہ کی لاٹ بھی نظر آتی تھی ، قطب صاحب کا مینار بھی سامنے تھا اور پیچھے تغلق بادشاہوں کی قبریں تھیں جو کسی وقت ہندوستان پر حکمران رہ چکے تھے ان کو دیکھ کر میرے دل پر یہ اثر ہوا کہ گجا وہ حالت تھی کہ مسلمانوں کی شان وشوکت حیدر آباد تک پھیلتی چلی گئی تھی اور میں سارے علاقہ میں اُن کی شوکت کے آثار دیکھتا چلا آ رہا ہوں اور گجا یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔لاہور کے ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کا واقعہ بیشک اس میں مسلمانوں کا اپنا بھی قصورتھا مگر پھر بھی یہ ایک نہایت دردناک حالت تھی چنانچہ ۱۹۲۷ء میں لاہور کا ایک انگریز ڈپٹی کمشنر جو کسی زمانہ میں گورداسپور بھی رہ آیا تھا اور ہماری جماعت کی بہت تعریف کیا کرتا تھا اُس کے پاس ایک فساد کے موقع پر جبکہ سکھوں نے لاہور کے کچھ مسلمانوں کو جو مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہے تھے مار دیا تھا، میں نے خانصاحب ذوالفقار علی خانصاحب کو بھیجا اور کہا کہ آپ تو مسلمانوں کے بڑے خیر خواہ تھے لیکن اس فساد میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم کیا ہے اور آپ نے اُلٹا مسلمانوں کو پکڑ لیا ہے۔وہ کہنے لگا میں آپ کو کیا بتاؤں کہ مسلمان کتنے بیوقوف ہیں۔میں واقع میں مسلمانوں کا خیر خواہ تھا مگر جو کچھ میرے ساتھ گزرا وہ آپ کو معلوم نہیں۔میں گورداسپور سے ملتان جا کر لگا، وہاں میں نے مسلمان لیڈروں کو بلوایا اور کہا کہ میں نے جو پُرانے فائل دیکھے ہیں، اُن سے پتہ لگتا ہے کہ ہندوؤں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے ظلم کئے ہیں مگر میں بحیثیت ڈپٹی کمشنر گورنمنٹ کا ملازم ہوں اور کسی کو یہ پتہ نہیں لگنا چاہئے کہ میں نے یہ بات تمہیں بتائی ہے اگر تم کسی کو نہ بتاؤ تو میں تمہیں بتا تا ہوں کہ تم اس اس قسم کے میمورنڈم (MEMORANDUM) بھجواؤ میں وہ میمورنڈم گورنمنٹ کے پاس بھیجوا دونگا اور انہیں لکھونگا کہ مسلمانوں پر اِس اِس قسم کے ظلم ہو رہے ہیں ان کی مدد کرنی چاہئے۔اُس ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ وہ لیڈر بڑا پختہ وعدہ کر کے گئے لیکن شام ہوئی تو انہوں نے ہندوؤں کو ی