سیر روحانی — Page 700
اور آپ کے ذریعہ سے پرانی روحانی نہریں بھی جاری رہیں۔پرانے زمانہ کے بادشا ہوں نے جتنی نہریں بنائی تھیں وہ سب کی سب ختم ہو گئیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہر اب تک چلی جا رہی ہے۔دنیوی اور روحانی شہروں میں بعض نمایاں فرق اب دیکھو دنیا کی شیریں تو خشک ہو جاتی ہیں مگر یہ نہریں وہ ہیں جو خشک نہیں ہوتیں۔دُنیوی نہروں سے جسمانی غلہ پکتا ہے مگر ان سے تقویٰ کا دانہ پکتا ہے۔دنیوی نہروں کا تیار کردہ غلہ ایک وقت کام آتا ہے اور پھر سڑ جاتا ہے مگر یہ وہ نہر ہے جس کا غلہ ابدالآباد تک کام آتا ہے۔فرماتا ہے اَلْمَالُ وَالْبَنُونَ زِ يُنَةُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَالْبَقِيتُ الصَّلِحْتُ خَيْرٌ عِندَرَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ أَمَلًاه ۵۰ یعنی دنیا کی نہروں کے مال اور اس سے پیدا کئے ہوئے غلے اور نسلِ انسانی کے افراد صرف دنیا میں کام آتے ہیں آخرت میں کام نہیں آتے۔مگر جو قرآنی نہر سے پکا ہو اغلہ ہے وہ قیامت تک کام آتا چلا جائیگا۔حضرت مسیح ناصری نے بھی کہا ہے کہ اس دنیا کے خزانہ کو کیڑا کھا جاتا ہے مگر آسمان کا خزانہ محفوظ ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔۵۱۷ غرض وہ مال جو اس پانی سے پیدا ہوتا ہے اور وہ بیٹے جو اس مال کو کھا کر بڑھتے ہیں اسی دُنیا میں ختم ہو جاتے ہیں لیکن وہ چیزیں (الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ ) جو قرآنی نہر سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چلائی ہوئی نہر سے پلتے ہیں وہ قیامت تک زندہ رہتے ہیں اور ابدی زندگی پاتے ہیں۔کیونکہ مؤمن رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی نہر کا پھل ہے اور مؤمن کو ابدی زندگی کا وعدہ ہے۔اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہر کا پیدا کیا ہوا پھل قیامت تک چلے گا اور وہ کبھی خراب نہیں ہوگا۔دیکھو ابو جہل کے مال نے جو مادی پانی سے حاصل ہوا تھا جو کچھ پیدا کیا وہ ختم ہو گیا مگر جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے پانی سے پیدا ہو ا وہ ابدی زندگی پا گیا۔