سیر روحانی — Page 699
۶۹۹ یعنی تم بادل کو دیکھو جو بار بار برستا ہے اور زمین کو دیکھو جو پھٹتی ہے تو اس میں سے پھل وغیرہ نکلتا ہے اگر تم ان باتوں پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے لئے خدا نے ایک موسم مقرر کیا ہے۔کسی میں پانی اترتا ہے کسی میں کوئی خاص تر کاری اُگتی ہے اگر تم اس طرح غور کرو گے تو تمہیں اس سے بھی بڑے بڑے علوم حاصل ہو جائیں گے۔غرض قرآن کریم نے ان تمام علوم کی طرف جو دنیا میں جاری ہیں اشارہ کیا ہے اور اُن کے سیکھنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اُن کا منبع بتایا ہے کہ فلاں فلاں جگہ سے تم ان علوم کو نکال سکتے ہو۔پس جس قدر ڈ نیوی علوم ہیں اُن کا ماخذ قرآن کریم ہے اور ان کی طرف اس نے بار بار توجہ دلائی ہے۔علومِ دینیہ کی نہر مگر اس کے علاوہ اُس نے دینی علوم کی نہریں بھی جاری کی ہیں اور در حقیقت یہی نہریں روحانی نقطہ نگاہ سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ قرآن کریم کا زیادہ تر دین سے ہی تعلق ہے۔عالم روحانی کے سب سے بڑے سمندر تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر اُن سے آگے دنیا میں کئی قسم کی روحانی نہریں جاری ہوئیں۔چنانچہ دیکھ لو ایک نہر شریعت کی چلی۔پھر اُسی نہر میں سے ایک حنفی نہر نکلی ، ایک شافعی نہر نکلی ، ایک مالکی نہر نکلی ، ایک جنبلی نہر نکلی۔یہ مختلف قسم کی نہریں ہیں جو شریعت کی نہر میں سے جاری ہوئیں۔پھر ایک شیعوں کی نہر جاری ہوئی ،ایک سنیوں کی نہر جاری ہوئی ، ایک خارجیوں کی نہر جاری ہوئی اور ان کے ذریعہ سے شریعت کے مختلف پہلو زیر بحث آتے رہے۔پھر ایک تصوّف کی نہر چلی، ایک فلسفہء شریعت کی نہر چلی جس کے بہت بڑے بانی ہمارے شاہ ولی اللہ صاحب اور امام ابن تیمیہ تھے۔اور آخر میں سب سے زیادہ اہم کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا۔پھر سیاست کی ایک نہر چلی جو حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ سے شروع ہوئی اور پھر وہ آگے نکلتی چلی گئی۔اور اس طرح یہ روحانی سلسلہ جو سیاست مذہبی اور فلسفہ، مذہبی اور احکام شریعت کی حکمتوں اور ان کی ضرورتوں کے ساتھ تعلق رکھتا تھا دُنیا میں وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔پھر اخلاق فاضلہ کی ایک نہر جاری ہوئی جسے امام غزالی نے اور بھی لمبا کیا اور اس سے زمین کو سیراب کیا۔اسی طرح تصوف میں جنید - شبلی۔حضرت معین الدین صاحب چشتی۔بہاؤ الدین صاحب نقشبندی۔شہاب الدین صاحب سہر وردی وغیرہ جیسے عظیم الشان لوگ گزرے اور پھر یہ ساری نہریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں آکر مدغم ہو گئیں اور پھر ایک نئی نہر دُنیا میں چل پڑی