سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 694 of 900

سیر روحانی — Page 694

۶۹۴ ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ اُن کے اندر بھی کوئی قانون جاری ہے۔چنانچہ ایسے ایسے قانون اُن کے اندر جاری ہیں کہ حیرت آجاتی ہے۔دیکھو! مگھ اور مرغابی وغیرہ ایک خاص موسم میں ایک خاص ملک سے جو کئی ہزار میل پر ہے اُڑتی ہے اور یہاں آکر بیٹھ جاتی ہے۔اور پھر ایک خاص وقت میں جبکہ ابھی موسمیات کے ماہروں کو بھی پتہ نہیں لگتا مرغابی اُڑنے لگ جاتی ہے اور اُس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ اب فلاں قسم کی ہوائیں چلیں گی یا بارشیں ہونگی۔تو فرماتا ہے تمہاری طرح ان میں بھی کچھ قوانین چل رہے ہیں تم سمجھتے ہو کہ یہ بے عقل پرندے ہیں حالانکہ اگر تم ان پرندوں پر غور کرو تو اس سے بھی بڑے بڑے علوم نکل آئیں گے اور تم کو پتہ لگے گا کہ خدا تعالیٰ نے ان کے اندر کتنی حکمتیں رکھی ہیں۔مثلاً میں نے چیونٹیوں اور مکھیوں کے متعلق چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں میں نظام کتابیں پڑھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شہد کی مکھیوں اور چیونٹیوں میں اتنا نظام ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں۔امریکہ کے ایک رسالہ میں میں نے پڑھا کہ اور بلاؤ کے جو ایک جانور ہے اور پانی میں رہتا ہے اور دریا کے کنارے پر مٹی کے گھر بناتا ہے، اتفاقاً ایک جگہ پر اس کے کچھ بچے بہہ کر آگئے۔اُن کو چونکہ گھر بنانے کا علم نہیں تھا اس لئے وہاں سے ایک بچہ بہہ کر اس جگہ گیا جہاں پر انے اور بلا ؤ رہتے تھے اور وہاں سے اُس نے ایک بڑھے اور بلا ؤ کو بلایا اور اُس اور بلا ؤ نے آکر ان کو مکان بنانے سکھائے اور پھر وہ واپس چلا گیا۔اسی طرح یہ ثابت ہوا کہ بعض جانو ر ایسے ہیں جن کے گھونسلے پہلے اور شکل کے ہوتے تھے مگر اب اور شکلیں بنے لگ گئی ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی طرح وہ بھی ترقی کر رہے ہیں۔ایک عجیب تجربہ میرا اپنا ایک عجیب تجربہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جس سفر میں لاہور میں فوت ہوئے ہیں، اس سفر میں میرے پاس ایک ہوائی بندوق تھی۔میں نے اس سے ایک فاختہ ماری جب میں نے اسے ذبح کرنے کے لئے اُٹھایا تو میں نے دیکھا کہ اس کے پیٹ کے پاس درخت کی ایک شاخ سے گرہ بندھی ہوئی تھی۔میں نے وہ گرہ کھولی تو معلوم ہوا کہ اُس کو کبھی زخم لگا تھا جسے اُس نے ڈاکٹر کی طرح سیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے اپنی چونچ سے یا کسی دوسری فاختہ کی چونچ سے وہ زخم سلوایا۔جب میں نے اس کا شکار کیا تو وہ زخم بالکل مندمل ہو چکا تھا۔چنانچہ جب میں نے گرہ کھولی تو میں نے دیکھا کہ وہ زخم بالکل ٹھیک