سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 695 of 900

سیر روحانی — Page 695

۶۹۵ ہو چکا تھا اور نیچے سے خشک چمڑا نکل آیا تھا۔اسی طرح علم حیوانات کے متعلق فرماتا ہے اَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَاماً فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ وَذَ لَّلُنهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوُ بُهُمْ وَمِنْهَا يَا كُلُوْنَه وَلَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلَا يَشْكُرُونَ ۳۷ یعنی کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے جو چیزیں پیدا کی ہیں وہ کئی قسم کی ہیں۔بعض پر وہ سواریاں کرتے ہیں ، بعض کو وہ کھاتے ہیں اور بعض سے وہ اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔مثلاً ان کے چمڑے وغیرہ کئی کام آتے ہیں اور بعض جانوروں کے دودھ پیتے ہیں۔کیا وہ ان نعمتوں پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے ؟ یعنی جانور کو بھی صرف دیکھنا نہیں چاہئے بلکہ غور کرنا چاہئے کہ اس کے گوشت میں کوئی زہر تو نہیں ہے۔بچپن کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے بچپن میں مجھے ہوائی بندوق کے شکار کا شوق ہوا کرتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی شکار پسند تھا کیونکہ یہ طاقت قائم رکھتا ہے۔میں آپ کے لئے فاختائیں مار کر لا یا کرتا تھا۔ایک دفعہ فاختہ نہ ملی تو طوطا مار کر لے آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رکھ تو لیا مگر تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز دی کہ محمود ! ادھر آؤ۔میں گیا تو آپ نے طوطا اُٹھایا اور فرمایا دیکھو محمود ! اللہ تعالیٰ نے سارے جانور کھانے کے لئے نہیں بنائے ، کچھ دیکھنے کے لئے بھی بنائے ہیں۔طوطا ایک خوبصورت جانور ہے یہ خدا نے دیکھنے کے لئے بنایا ہے۔تم نے سمجھا کہ ہر ایک جانور کھانے کے لئے ہے۔یہی قرآن کریم فرماتا ہے کہ جانوروں پر بھی غور کرو۔اُن کی خاصیتیں الگ الگ ہیں۔کچھ کھانے کے لئے اچھے ہیں، کچھ دیکھنے کے لئے اچھے ہیں، کچھ بولنے کے لحاظ سے اچھے ہیں جیسے مینا اور طوطا بولتے ہیں یا پیتے ہیں وہ بھی بولتے ہیں تو مختلف قسم کے فائدے ہیں جو اُن سے پہنچتے ہیں۔اسی طرح کوئی سواری کے کام آتا ہے، کسی کا چڑا اچھا ہوتا ہے، کوئی کھانے کے کام آتا ہے، کسی سے پوستینیں ، جوتے اور بُوٹ بنتے ہیں۔علم معیشت کی نہر پھر عالم معیشت کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ حج کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّكُمْ۔۳۹ یعنی تمہارے لئے یہ کوئی گناہ کی بات نہیں کہ تم حج کے ایام میں تجارت کے ذریعہ اپنے ۳۸