سیر روحانی — Page 693
۶۹۳ یعنی نر مادہ صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ ہر چیز میں ہیں۔نباتات میں بھی ہیں بلکہ جمادات میں بھی ہیں۔کچھ مدت ہوئی میں نے پڑھا کہ ٹین سے کے متعلق تحقیقات ہوئی ہے کہ ٹین کی بعض قسمیں نہ ہیں اور بعض مادہ ہیں۔غرض علم نباتات کی طرف بھی قرآن نے توجہ دلائی ہے۔علم توافق بین المخلوقات کی نہر اس طرح علم توافق بین الخلوقات کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے۔یعنی مختلف مخلوقات کی مختلف ضرورتیں ہوتی ہیں فرماتا ہے وَالْأَرْضَ مَدَدْ نَهَا وَالْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْ زُونٍ ۳۳ یعنی ہم نے زمین کو پھیلایا ہے اور اُس میں پہاڑ بنائے ہیں اور اس میں مختلف چیزیں اُگائی ہیں جو ضرورت کے مطابق ہیں۔یعنی انسان کی ضرورت بھی اُن سے پوری ہو جاتی ہے اور جانوروں کی ضرورت بھی اُن سے پوری ہو جاتی ہے۔کئی چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق لوگ کہا کرتے تھے کہ بے غرض پیدا ہوگئی ہیں۔اگر کوئی خدا ہوتا تو بے ضرورت چیزیں کیوں پیدا کرتا لیکن اب تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض قسم کے کیڑے جو بعض وبائی کیٹروں کو مارتے ہیں وہ ان غذاؤں کو کھاتے ہیں۔تو كُلَّ شَيْ ءٍ مَّرُزُون میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اُس نے ہر ایسی چیز پیدا کر دی ہے جس کی کسی انسان یا جانور کو ضرورت ہے۔اُن میں سے بعض کی ایسے خوردبینی کیٹروں کو ضرورت ہوتی ہے جو آنکھوں سے بھی نظر نہیں آتے۔اگر وہ چیز نہ ہوتی جس کو ہم لغو سمجھتے ہیں تو وہ کیڑے بھی پیدا نہ ہوتے اور اگر وہ کپڑے نہ پیدا ہوتے تو وہ وبائیں بھی نہ جاتیں جو ان کیڑوں کی وجہ سے دُور ہوتی ہیں۔علم حیوانات کی نہر پھر عالم حیوانات کی طرف بھی اس نے توجہ دلائی ہے۔فرماتا ہے۔وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ ايْتُ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ " یعنی تمہاری پیدائش میں بھی اور خدا تعالیٰ نے جو اور جانور زمین میں پھیلائے ہیں اُن میں بھی ایک یقین رکھنے والی قوم کے لئے بڑے نشان ہیں۔پھر فرماتا ہے وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَيْرٍ يَطِيرُ بِجَنَا حَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ۔۳۵ یعنی یہ جو زمین میں چلتے پھرتے جانور تمہیں نظر آتے ہیں اور ہواؤں میں اُڑتے ہوئے پرندے دکھائی دیتے ہیں یہ بھی تمہاری طرح کے گروہ ہیں۔اُمَم سے یہ مراد نہیں کہ نبیوں کی اُمت کو