سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 652 of 900

سیر روحانی — Page 652

۶۵۲ میرے اعمال کیا ہیں۔اِنِّی ظَنَنتُ أَنِّي مُلَقٍ حِسَابِيَہ۔مجھے تو پہلے سے ہی یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ کسی کا حق نہیں مارتا۔میں نے جو نیک کام کئے ہیں مجھے ان کا ضرور بدلہ ملے گا، سو اُمیدوں سے بڑھ کر ملا۔دنیوی حکومتوں کے نظام میں مختلف نقائص دیکھو دفاتر اور ڈائریوں کا ایسا مکمل اور بے اعتراض نظام دنیا کی مہذب سے مہذب حکومت میں بھی نہیں ہوتا۔دُنیوی حکومتوں نے تو حال میں یہ ڈائری نویسی کے انتظام شروع کئے ہیں۔چنانچہ ڈائری نویسی کے انتظام کا کوئی ہزار پندرہ سو سال سے پتہ لگتا ہے اس سے پہلے نہیں بلکہ صرف ہزار سال کے قریب ہی عرصہ ہوا ہے لیکن قرآنی حکومت نے تیرہ سو سال پہلے اس کا مکمل نقشہ کھینچا ہے کہ ڈائری ہونی چاہئے ، ڈائری نولیس کی صداقت کا ثبوت ہونا چاہئے اور مجسٹریٹ کو پتہ ہونا چاہئے کہ سچائی کیا ہے؟ یہ تین چیزیں جمع ہوں تب سزا کے متعلق یہ تسلی ہو سکتی ہے کہ سزا ٹھیک ہے۔ہمارے ہاں اول تو ڈائری نویس جھوٹا بھی ہوتا ہے اور سچا بھی ہوتا ہے۔پھر اس کی تصدیق کرنے والے کوئی نہیں ہوتے بلکہ بنائے جاتے ہیں۔تیسرے مجسٹریٹ بیچارے کو کچھ بھی پتہ نہیں ہوتا۔حضرت امام ابو حنیفہ حضرت امام ابو حنیفہ کا قاضی القضاۃ بننے سے انکار رحمۃ اللہ علیہ کو بادشاہ نے قاضی القضاۃ مقرر کیا تو انہوں نے اس عہدہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا میں قاضی القضاۃ نہیں بنتا۔بادشاہ خفا ہو گیا اور اس نے کہا میں اس کو سزا دونگا کیونکہ انہوں نے ہتک کی ہے۔مگر چونکہ لوگوں میں خبر مشہور ہو چکی تھی اس لئے ان کے دوست دُور دُور سے انہیں مبارک باد دینے کے لئے پہنچے کہ آپ قاضی القضاۃ مقرر ہو گئے ہیں۔لیکن جب شہر میں پہنچے تو بتہ لگا کہ آپ نے تو انکار کر دیا ہے۔بہر حال وہ آپ کے پاس آئے اور کہا ہم تو مبارکباد دینے کے لئے آئے تھے۔انہوں نے کہا تم کس بات کی مبارک باد دینے کے لئے آئے تھے۔وہ کہنے لگے اتنی بڑی حکومت کا آپ کو قاضی القضاۃ مقرر کیا گیا ہے کیا ہم مبارکباد نہ دیں۔انہوں نے کہا تم بڑے بیوقوف ہو، میں کیا کرونگا؟ میں عدالت میں جاکر بیٹھوں گا اور دو آدمی میرے سامنے پیش ہو نگے ایک کہے گا اس نے میرا سو روپیہ دینا ہے دوسرا کہے گا میں نے کوئی نہیں دینا۔اب وہ دونوں آپس میں جھگڑ رہے ہونگے ، یہ کہے گا دینا ہے وہ کہے گا نہیں دینا اور میں بیچ