سیر روحانی — Page 651
۶۵۱ یعنی یہاں تو کچھ دنوں کے بعد نقل ملتی ہے یا اگر جلدی لینی ہو تو وہ بھی تین چار دن میں ملتی ہے اور اس کے لئے کئی گنے زیادہ قیمت دینی پڑتی ہے مگر وہاں اِدھر فیصلہ ہوگا اور اُدھر اگر وہ مُجرم ہے تو اُس کے بائیں ہاتھ میں مفت نقل پکڑا دی جائے گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اعمالنامہ اور فیصلہ کی نقل ہے اور یہ نقل مفت ملے گی کوئی پیسہ نہیں دینا پڑے گا۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ریکارڈ کی نقل دینے کا فیصلہ کی نقل دینے کا فائدہ زائد فائدہ کیا ہے؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ سزا ملنے پر انسان کم سے کم اپنی کانشنس کو تسلی دیتا ہے کہ میر الجرم اتنا نہیں جتنا مجھے مجرم بنایا گیا ہے لیکن جب وہ ریکارڈ پڑھے گا تو اُسے معلوم ہوگا کہ جرم سے کم ہی سزا ملی ہے زیادہ نہیں اُس وقت وہ کہے گا۔لَيْتَنِي لَمُ اُوتَ كِتَبِيَة - کاش ! یہ کتاب مجھے نہ دی جاتی تاکہ کم سے کم میری کانشنس تو تسلی پاتی کہ شاید میرے گناہ کچھ زیادہ سمجھ لئے گئے ہیں ورنہ میں اتنا مجرم نہیں مگر اس سے تو پتہ لگتا ہے کہ گناہ زیادہ ہیں اور سزا کم ہے۔وَ لَمُ اَدْرِ مَا حِسَابِيَّهُ اور مجھے یہ نہ پتہ لگتا کہ میرا حساب کیا ہے کیونکہ حساب زیادہ بنتا ہے۔حساب بنتا ہے دوسو سال کی قید اور سزا دی ہے ایک سو پچاس کی۔میری کانشنس (CONSCIENCE) اُلٹا مجھے مجرم بناتی ہے کہ میں نے مُجرم بھی کئے ، غداریاں بھی کیں ، فریب بھی کئے پھر بھی سزا مجھے کم ملی۔مجھے پتہ نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے تو میری کانشنس کو کچھ تسلی رہتی۔نیک لوگوں کو بھی فیصلہ کی نقلیں دی جائیں گی اسی طرح فرماتا ہے کہ جو نیک کام کرنے والے ہیں اُن کو بھی ڈائریوں اور اُن کے فیصلہ کی نقل دی جائے گی چنانچہ فرماتا ہے فَلَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتبِيَهُ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلْقِ حِسَابِيَهُ یعنی جو نیک لوگ ہونگے اُن کو بھی فوراً کاپی دیدی جائیگی لیکن اُن کے دائیں ہاتھوں میں کا پی دی جائے گی اور جب وہ اُس کو پڑھیں گے تو اُس میں اُن کے اعمالنامہ کو ایسا خوبصورت کر کے دکھایا ہوگا اور وہ ایسے اچھے ٹائپ پر لکھا ہوگا کہ کہیں گے هَاؤُمُ اقْرَءُ وُا كِتَبِيَهُ - ارے بھائی ! ادھر آنا ذرا پڑھو تو سہی یہ کیا لکھا ہوا ہے۔جب کسی شخص کو کوئی انعام ملتا ہے تو وہ لازمی طور پر دوسرے لوگوں کو بھی اُس میں شامل کرنا چاہتا ہے۔پس هَاؤُمُ اقْرَءُ وُا كِتَبِيَهُ میں نقشہ کھینچ دیا گیا ہے کہ وہ فخر کر کے لوگوں کو بلائے گا اور کہے گا آؤ میاں! آؤ! ذرا دیکھو