سیر روحانی — Page 653
۶۵۳ میں بیٹھا ہونگا کیونکہ مجھے حکومت نے مقرر کیا ہے کہ فیصلہ کرو اس نے دینا ہے یا نہیں دینا۔وہ جو کہتا ہے اس نے سو روپیہ دینا ہے۔اُس کو پتہ ہے کہ اُس نے دینا ہے یا نہیں دینا اور جو کہتا ہے میں نے نہیں دینا اُس کو بھی پتہ ہے کہ میں نے دینا ہے یا نہیں دینا اور میں جو جج بن کر بیٹھا ہونگا مجھے پتہ ہی نہیں ہوگا کہ اس نے دینا ہے یا نہیں دینا۔پس سب سے زیادہ قابل رحم حالت تو میری ہوگی کہ مدعی کو بھی سچائی کا پتہ ہے اور مدعا علیہ کو بھی سچائی کا پتہ ہے اور میں جو قاضی بن کے بیٹھا ہوں جس کے سپر د سب سے اہم کام ہے اُس کو نہیں پتہ کہ حقیقت کیا ہے؟ تو میں کس طرح یہ بوجھ اُٹھا سکتا ہوں۔تو یہ بھی ایک بڑا مشکل سوال ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی قضاء میں دیکھو کتنا ز بر دست نظام رکھا گیا ہے کہ ہم ڈائری بھی پیش کریں گے، لکھنے والے عینی گواہ بھی لائیں گے اور پھر عینی گواہوں کے علاوہ اپنی زبان اور اپنے کانوں اور اپنے ہاتھ پاؤں کا ریکارڈ لائیں گے تاکہ وہ انکار نہ کر سکیں اور اس کے بعد ہم جو فیصلہ کرنے والے ہیں انہیں بتا ئیں گے کہ ہم بھی وہاں بیٹھے دیکھ رہے تھے اس لئے اس فیصلہ کو کوئی غلط نہیں کہہ سکتا۔مگر بڑے حکومتیں روحانی نظام کی اب تک نقل بھی نہیں کر سکیں کراتے ہوے زبر دست نظام کو دیکھ کر بھی حکومتیں اسکی نقل نہیں کر سکیں۔حکومتوں نے ڈائریاں بھی بنائی ہیں، اب ریکارڈر بھی نکال لئے ہیں مگر وہ ریکارڈر کروڑوں مقدموں میں سے کسی ایک میں استعمال ہوتا ہے ہر جگہ نہیں ہو سکتا۔غرض اتنے نظام کو دیکھنے کے بعد بھی دنیا ایسا نظام نہیں بنا سکی اور ابھی دنیا کہہ رہی ہے کہ قرآن کی ہم کو ضرورت نہیں ہے۔تیرہ سو سال سے یہ اعلیٰ درجہ کا نظام حکومت قرآن بیان کرتا ہے اور تیرہ سو سال سے اس کو تفصیل کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے، تیرہ سو سال سے مہذب دنیا کی حکومتیں اس کو دیکھتی ہیں اور اس کی نقل کرنیکی کوشش کرتی ہیں مگر تیرہ سو سال کے عرصہ میں اس کی مکمل نقل نہیں کر سکیں۔اگر وہ ڈائریاں لکھنی شروع کرتی ہیں تو ان کو سچے ڈائری نولیس نہیں ملتے۔اگر ڈائری نویس کی تصدیق کا ثبوت ملتا ہے تو پہلے تو ان کو اس کا پتہ ہی نہیں تھا اب ریکارڈر نکالا تو وہ ریکارڈر کو ہر جگہ استعمال نہیں کر سکتے اور اگر ریکارڈر ہو بھی تو پھر بھی حج کو صحیح پتہ نہیں لگ سکتا اور کوئی ایسا حج اُن کو نہیں مل سکتا جس کو پتہ ہو کہ واقعہ کیا ہے۔وہ محض قیاسی باتیں کرتا ہے چنانچہ ہزاروں دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جج نے ایک فیصلہ کیا ہے اور بعد میں معلوم ہوا ہے کہ وہ فیصلہ غلط تھا۔ہم نے انگلستان کے بعض فیصلے پڑھے ہیں جن میں یہ ذکر آتا۔