سیر روحانی — Page 570
۵۷۰ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدٍ مَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَّ مَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَ لَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُهِ الَّذِينَ إِنْ مَّكَّنْهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَآتَوُا الزَّكَوةَ وَاَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِه یہ نوبت خانہ ڈھم ڈھم ڈھم سے نہیں بجایا جاتا یہ ایسے الفاظ کے ساتھ بجایا گیا ہے جن میں حقائق بیان کئے گئے ہیں۔اسلام کا اعلانِ جنگ اور اُس کی اہم اغراض اس میں بتایا گیا ہے کہ :- اول یہ اعلان جنگ جو کیا جا رہا ہے جارحانہ نہیں ہے بلکہ مدافعانہ ہے۔ہم کسی قوم پر خود حملہ کرنا جائز نہیں سمجھتے ہمیں جب مجبور کیا جائے اور ہم پر حملہ کیا جائے تو ہم اپنی جان اور مال اور عزت اور دین کے بچانے کے لئے اُس سے لڑنا جائز سمجھتے ہیں اس لئے وہ لوگ جن پر حملہ کیا گیا، جن کو دُکھ دیئے گئے ، اُن کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ نکلیں اور دشمن کا مقابلہ کریں۔دوم اس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ دشمن زبر دست ہے اُس نے ان لوگوں کو جن کے لئے طبل جنگ بجایا گیا ہے گھروں سے نکال کر ملک بدر کر دیا تھا اور یہ لوگ اُن کے خلاف ایک انگلی تک نہیں ہلا سکتے تھے چنانچہ ان کی کمزوری کی مثال دیکھ لو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مکہ میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے تو آپ نے صحابہ کو بلایا اور فرمایا تم لوگ یہ تکلیفیں برداشت نہیں کر سکتے مجھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت نہیں تم ہجرت کر جاؤ۔صحابہ نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ ! ہمیں کون ملک پناہ دے گا ؟ آپ نے فرمایا سمندر پار حبشہ کا ایک ملک ہے اُس میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا بادشاہ مقرر کیا ہے جو انصاف پسند ہے اُس میں چلے جاؤ۔چنا نچہ بعض صحابہ نے فیصلہ کر لیا کہ اس ملک میں ہجرت کر کے چلے جائیں۔اُن میں ایک صحابی اور اُن کی بیوی بھی تھیں۔وہ جانتے تھے کہ انہوں نے ہمیں ہجرت بھی نہیں کرنے دینی جیسے پارٹمیشن کے موقع پر ہوا تھا کہ جو لوگ ہجرت کر کے آنا چاہتے تھے اُن کو بھی ہندو اور سکھ نہیں آنے دیتے تھے۔اسی طرح وہ لوگ جانتے تھے کہ مکہ والوں نے ہمیں ہجرت کر کے نہیں جانے دینا اس لئے رات کے وقت وہاں سے بھاگتے تھے تا کہ کسی طرح بچ کے نکل جائیں۔ایک دن ایک مسلمان اور ان کی بیوی نے فیصلہ کیا کہ ہم ہجرت کر جائیں اور فیصلہ کیا کہ رات