سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 900

سیر روحانی — Page 571

۵۷۱ کے وقت ہم دونوں اونٹ پر سوار ہو کر چلے جائیں گے۔حضرت عمرؓ اُس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔وہ چونکہ حفاظت مکہ پر مقرر تھے وہ رات کو مکہ کا پہرہ دیا کرتے تھے کہ دیکھیں کیا حالت ہے شہر میں کوئی مخالفانہ رویہ تو نہیں۔وہ گشت لگاتے لگاتے پہنچے تو یہ لوگ اونٹ پر اسباب لاد رہے تھے حضرت عمرؓ اُس وقت تک اسلام کے سخت مخالف تھے انہیں شبہ ہوا کہ یہ بھا گنا چاہتے ہیں۔چنانچہ اُس عورت کو مخاطب کر کے کہنے لگے کیوں بی بی ! کیا منتیں ہیں اور کدھر کے ارادے ہیں ؟ خاوند نے ٹلا کر کچھ اور بات کہنی چاہی مگر عورت کے دل کو زیادہ چوٹ لگی۔وہ آگے سے غصہ سے کہنے لگی عمر! یہ بھی کوئی انصاف ہے کہ ہم تمہارے شہر میں تمہارا کچھ بگاڑتے نہیں ، کوئی شرارت نہیں کرتے ، تمہارے ساتھ لڑائی نہیں کرتے ، دنگا نہیں کرتے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں اور تم وہ بھی نہیں کرنے دیتے اور ہم یہاں سے جانا چاہتے ہیں تو تم ہمیں جانے بھی نہیں دیتے، ظلم کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔آدھی رات کو ایک عورت کو اونٹ پر سامان لا دتے دیکھ کر حضرت عمرؓ کے دل کو چوٹ لگی آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور منہ پھیر لیا۔پھر پیٹھ پھیر کر اُن کا نام لیا اور کہنے لگے بی بی! اللہ تمہارے ساتھ ہو جاؤ اسے گویا یہ حالت تھی اُن لوگوں کی کہ اُن کو نکلنے بھی نہیں دیا جاتا تھا اور اُن کے لئے ملک چھوڑنے کے لئے بھی کوئی آزادی نہیں تھی اور جب وہ اپنا ملک چھوڑ کر غیر ملکوں میں چلے گئے تو وہاں بھی حملہ کیا۔حبشہ گئے تو وہاں اُن کو لینے کے لئے آدمی پہنچے۔مدینہ گئے تو وہاں حملہ شروع کر دیا۔سوم ان لوگوں کو جو گھر سے نکالا گیا تھا تو اُن کے کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ بلا سبب مگر پھر بھی یہ لوگ اُف نہیں کر سکے اور پھر اُن کو نکال کر بس نہیں کی گئی بلکہ جس غیر ملک میں انہوں نے پناہ لی وہاں بھی جا کر حملہ کر دیا گیا۔چہارم یہ اعلان کیا گیا کہ ان پر جو ظلم کئے جا رہے ہیں یہ کسی سیاسی وجہ سے نہیں کئے جا رہے کسی ملک یا علاقہ کا یہ لوگ مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف اس لئے ان پر ظلم کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم اور حکومت کو کہ دیا ہے کہ ہم سیاسی آدمی نہیں ہیں۔آپ جو کچھ ہمیں حکم دیں گے ہم آپ کی مانیں گے مگر جن امور کا تعلق مَا بَعْدَ الْمَوت سے ہے اُنکی تیاری کے لئے ہم کو آزاد چھوڑ دیا جائے کیونکہ جسموں کی بادشاہت حکومت کے پاس ہے مگر رُوح کی حکومت خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہے اس لئے حکومت ہمارے جسموں پر تو حکومت کرے مگر ہماری روحوں کو آزاد چھوڑ دے کہ ہم اپنے اللہ سے صلح کر لیں۔مگر حکومت نے کہا نہیں ہم تمہارے جسموں پر