سیر روحانی — Page 569
۵۶۹ ہوتا تھا اس وجہ سے کہ وہ مظلوم ہوتا تھا دوسری زبر دست طاقتیں کمزور کی مدد کو آ جاتیں اور ساری نمائش دھری کی دھری رہ جاتی۔نوبت خانوں کی بعض اور خامیاں (۴) چوتھی بات میں نے یہ دیکھی کہ یہ نوبت خانے صرف دنیوی شمکس کیلئے بجائے جاتے تھے اخلاقی اور روحانی قدروں کے بچانے کی اُس میں کوئی صورت نہیں ہوتی تھی۔لڑائیاں محض ڈ نیوی فوائد اور ڈ نیوی اغراض کے لئے ہوتی تھیں۔(۵) میں نے دیکھا کہ یہ نوبت خانے جو بجتے تھے ذاتی اغراض کے لئے بجائے جاتے تھے۔دوسری اقوام اور دوسرے مذاہب کے حقوق کا بالکل لحاظ نہ ہوتا تھا اور نفسانیت کے علاوہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کا اس سے کوئی تعلق نہ ہوتا تھا۔(۶) میں نے دیکھا کہ اگر واقع میں کوئی خرابی بھی ان حملوں کا باعث ہوتی تھی یعنی واقع میں اُس قوم نے کوئی ظلم کیا ہوتا تھا تو فتح کے بعد اس ظلم کی اصلاح نہیں ہوتی تھی صرف اُس کا رنگ بدل جاتا تھا۔فرض کرو ہندوستان کی کسی ریاست نے انگریزوں پر ظلم بھی کیا ہوتا تھا اور اس جنگ کے بعد یہ نہیں ہوتا تھا کہ ظلم مٹ گیا بلکہ یہ ہوتا تھا کہ پہلے انگریزوں پر ظلم ہوتا تھا پھر ہندوستانیوں پر ظلم شروع ہو جا تا تھا۔ظلم بہر حال قائم رہتا تھا۔( ۷ ) ان نوبت خانوں سے بعض دفعہ اپنے لوگوں کو ہمت دلانے کیلئے یہ بھی اعلان کئے جاتے تھے کہ مثلاً فرانس لڑائی کا اعلان کرتا تو کہتا انگریز بھی میری مدد کے لئے آ رہا ہے فلاں ملک بھی میری مدد کے لئے آرہا ہے۔ایران اعلان کرتا تو کہتا چین کی فوجیں بھی میری مدد کے لئے آ رہی ہیں۔ہندوستان کی فوجیں بھی میری مدد کے لئے آ رہی ہیں۔افغانستان کی فوجیں بھی میری مدد کے لئے آ رہی ہیں۔غرض دنیوی مدد اور تائید پر بڑا بھروسہ ظاہر کیا جاتا گویا اقرار کیا جاتا تھا کہ بغیر ان دُنیا کی تائیدوں کے ہم فتح نہیں پاسکتے۔دنیوی نوبت خانوں کے مقابلہ اب میں نے دیکھا کہ کیا اسلام نے بھی اسکے مقابلہ میں کوئی نوبت خانہ بجایا ہے جس نے بتایا ہو کہ اب اسلامی لشکر آگے بڑھتا ہے اپنے آدمیوں کو کہو کہ تیار میں اسلام کا شاندار نوبت خانہ ہو جاؤ۔تو میں نے دیکھا کہ قرآن میں یہ نوبت خانہ بج رہا ہے اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ :