سیر روحانی — Page 295
۲۹۵ باتوں کے سننے سے محروم کیا ہوا ہے، اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمُ لَهُمْ سُلَّمْ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ فَلْيَاتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَنٍ مُّبِينٍ ها کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کے ذریعہ سے وہ آسمان پر جا کر خدا تعالیٰ کی باتیں سُن سکتے ہیں ، اگر ان میں کوئی اس امر کا مدعی ہے کہ وہ آسمان پر گیا اور اس نے خدا تعالیٰ کی باتیں سنیں تو وہ اپنے دعوی کا ثبوت پیش کرے۔کفار اور منافقین کی عادت ان آیات سے ظاہر ہے کہ آسمان پر جا کر باتیں سننا تو الگ رہا وہاں تک کسی کے جانے کی اہلیت بھی قرآن کریم نے تسلیم نہیں کی۔پس در حقیقت اس جگہ آسمانی باتیں سننے کے معنے یہ ہیں کہ کفار اور منافقین کی عادت یہ ہے کہ وہ سچے دین کی باتوں کو اس نقطہ نگاہ سے سنتے ہیں اور اس لئے ان کو سیکھتے ہیں کہ وہ ان سے نئے نئے اعتراض پیدا کریں گے اور ان میں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر لوگوں کو برانگیختہ کریں گے۔یہ معنے نہیں کہ وہ عرش پر جا کر اللہ تعالیٰ کی باتوں کو سُن لیتے ہیں ، خدا تو خدا کی ہے اس دنیا کے معمولی معمولی بادشاہوں کے پاس پھٹکنے کی بھی لوگوں میں طاقت نہیں ہوتی اور وہ کی ان کے قرب میں جانے سے گھبراتے اور لرزتے ہیں، مگر عجیب بات یہ ہے کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ شیطان آسمان پر جاتا ہے اور وہ ملا اعلیٰ اور جبرائیل اور عرش کی باتوں کو سُن کر زمین پر آ جاتا ہے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ - شیطان کی طاقت ہی کہاں ہے کہ وہ آسمان کی کوئی بات سُن سکے ، ہاں وہ لوگ جو شیطان کے مثیل ہوتے ہیں جنہوں نے ابلیسی جامہ زیب تن کیا ہو ا ہوتا ہے وہ بے شک آسمان کی باتیں سنتے ہیں اور انہیں ایسے رنگ میں بگاڑ کر پیش کرتے ہیں کہ دنیا میں ایک فتنہ برپا ہو جاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو اس زمانہ کا پادری و ہیری قرآن کریم پڑھتا ہے وہ ایک مولوی کو ملازم رکھتا ہے، اس سے قرآنی تعلیم حاصل کرتا ہے اور پھر لدھیانہ میں ہیں سال تک کام کرتا ہے اور اس عرصہ میں قرآن کریم کی ایک تفسیر شائع کرتا ہے ، وہ اس کا نام تفسیر قرآن رکھتا ہے مگر اُسے پڑھا جائے تو وہ اسلام کے خلاف ہر قسم کے اعتراضات سے بھری ہوئی ہے۔قرآن کریم ایک آسمانی کتاب ہے زمینی نہیں ، قرآن کریم سننے کے لئے انسان کو آسمان کی طرف کان رکھنا پڑتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس لئے آسمان کی طرف کان رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آواز کو سنیں اور اُس پر عمل کریں۔اور شیطان اس لئے کان رکھتے ہیں کہ آسمانی باتوں کو سنیں اور ان پر اعتراض کریں۔فرماتا ہے جب بھی ایسے لوگ دنیا