سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 900

سیر روحانی — Page 294

۲۹۴ پس اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ وہ شخص جو الہی جماعت میں داخل ہو کر اس کے کلام کو کھلے بندوں سنتا ہے ، جماعت حقہ میں اپنے آپ کو شامل کر لیتا ہے اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ دین کی اشاعت کرے اور بھولے بھٹکوں کو راہِ راست پر لائے وہ اللہ تعالیٰ کی تائید سے حصہ لیتا ہے لیکن وہ لوگ جن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو سننے کے بعد انہیں بگاڑ کر پیش کریں اور لوگوں کو دھوکا اور فریب میں مبتلاء کریں یا وہ منافق جو اس لئے کسی سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں کہ اُس مشن کو نقصان پہنچا ئیں اور آسمانی کلام کے اُلٹ پلٹ معنے کر کے لوگوں میں بے ایمانی پیدا کریں، ان کے لئے آسمان سے ہمیشہ ایک شہاب گرا کرتا ہے، ایسے لوگ ج بھی کسی فتنہ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور ان کا فتنہ ایسا رنگ اختیار کر لیتا ہے جو دین کے لئے ضعف کا موجب ہو تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کسی مامور یا مصلح یا مجد دوقت کو ان کی بیخ کنی کے لئے کھڑا کر دیتا ہے جو شہاب بن کر ان پر گرتا ہے اور منافقت کفر وارتداد کے خیالات کا قلع قمع کر دیتا ہے۔شرارتوں کا قلع قمع کرنے کے لئے آسمانی تدبیر اس حقیقت کو اللہ تعالٰی نے سورۃ جن میں بھی بیان فرمایا ہے وہ فرماتا ہے۔وَاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدُلَهُ شِهَابًا رَّصَدًا ١٣ یعنی اس سے پہلے تو ہم آسمان سے سننے کی جگہوں پر بیٹھا کرتے تھے مگر اب تو جو شخص بھی آسمان کی باتیں سننے کے لئے جاتا ہے اس پر آسمان سے ایک ستارہ گرتا ہے۔یہاں بھی وہی مضمون بیان کیا گیا ہے جو اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جا چکا ہے یعنی جب شرارت کرنے والے دین کی باتیں بگاڑ کر پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو غلط فہمیوں میں مبتلاء کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی شرارتوں کے انسداد کے لئے آسمان سے ایک نور نازل کرتا ہے مسلمانوں نے غلطی سے ان آیات کا یہ مفہوم سمجھ لیا ہے کہ شیطان آسمان پر جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سُن لیتا ہے، حالانکہ قرآن کریم نے متعدد مقامات میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ شیطان آسمان کی باتیں سُن نہیں سکتا اس نے یہاں تک کہا ہے کہ اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْرُولُونَ " شیطان آسمانی کلام کے سننے کی طاقت ہی نہیں رکھتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے انہیں ان