سیر روحانی — Page 293
۲۹۳ چاروں طرف اس کے ظہور سے روشنی ہو جاتی ہے اور لوگوں پر دین کی حقیقت واضح ہو جاتی کی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ ایک ایسا آدمی میری امت میں مبعوث کیا کرے گا جو يُجَدِّدُلَهَا دِينَهَا دین کی خرابیوں کو دُور کرے گا اور اسلام کی تجدید کرے گا گویا وہی چیز جس کا نام قرآن کریم نے شہاب مبین رکھا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا نام مجد درکھا۔ہر نبی ایک شہاب ہے مگر محمد رسول اللہ اس تشریح کے ماتحت ہم کہہ سکتے ہیں کہ نشہاب مبین سے مراد ہمیشہ وقت کا نبی اور مجد د ہوتا ہے جو صلی اللہ علیہ وسلم شہاب مبین ہیں شیطان کی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے اور دین کو ہر قسم کی رخنہ اندازیوں سے پاک کر دیتا ہے، لیکن اس نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کا ہر نبی ایک شہاب ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ شہاب مبین بھی ہے کیونکہ وہ لوگ جو دین میں رخنہ اندازی کرتے ہیں ان کی ہلاکت اور بربادی کا وہ اس وقت موجب نہیں ہیں، یہ کام صرف وقت کا نبی یا مجد د کر سکتا ہے اور یا پھر وہ نبی کر سکتا ہے جس کی نبوت قیامت تک زندہ ہو اور جس کی شریعت ہر زمانہ میں قابل عمل ہو۔اس لحاظ سے گو ہر مجد د اور ہر نبی ایک شہاب ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہاب مبین ہیں، کیونکہ آپ صرف نبی ہی نہیں بلکہ خاتم النبین بھی ہیں اور آپ کی نبوت قیامت تک زندہ ہے۔اب جو شخص بھی دین کے احیاء کے لئے مبعوث ہو گا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہو گا ، آپ سے الگ ہو کر اور آپ کی غلامی سے انکار کرتے ہوئے کوئی شخص اس منصب پر فائز نہیں ہوسکتا۔آسمانی باتیں سننے کے معنے اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے تو یہ فرمایا ہے کہ جب کوئی میری باتیں سنتا ہے یا آسمان کی باتیں سنتا ہے تو اس پر ایک شہاب گرتا ہے جو اُسے تباہ کر دیتا ہے، حالانکہ قرآن کریم نے ہی آسمانی باتوں کے سننے کا ہم کو حکم دیا ہے پھر یہ کہنا کہ جو آسمانی باتیں سنتا ہے اس پر ستارہ گرتا ہے ایک بے معنی سی بات ہو جاتی ہے۔اس سوال کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ یہاں خالی آسمان کی باتیں سننے کا ذکر نہیں بلکہ اِسْتَرَقَ السَّمعَ کا ذکر ہے اِسْتَرَقَ ، سَرَق سے نکلا ہے جس کے معنے چوری کے ہوتے ہیں اور اِسْتَرَق السَّمْعَ کے معنے چوری چھپے سننے کے ہیں۔