سیر روحانی — Page 292
۲۹۲ یر کھینچ لائے گا جو دشمنوں کے لئے ہلاکت اور دوستوں کے لئے ایمان لانے کا موجب ہوگا۔شیاطین پر ہمیشہ شہاب مبین گرا کرتا ہے قرآن کریم میں یہ مضمون مختلف مقامات پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔سورۃ حجر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَّزَيَّتْهَا لِلنَّظِرِينَ وَحَفِظْنَهَا مِنْ كُلِّ شَيْطنٍ رَّحِيمٍ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ یعنی ہم نے اس دنیا میں ایک دینی نظام بھی قائم کیا ہوا ہے جس طرح مادی آسمان میں تمہیں مختلف ستارے دکھائی دیتے ہیں اسی طرح اس دینی نظام میں بھی ہم نے ستارے بنائے ہیں اور اسے ہر قسم کے شیطانوں کی دست برد سے بچایا ہے إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ مگر جب کبھی بے دین کی کوئی روح غالب آنے لگے تو آسمان سے ایک حقیقت ظاہر کرنے والا روشن ستارہ گرتا ہے جو جھوٹ کا پول کھول دیتا ہے اِسْتَرَقَ السَّمْعَ کے معنے عام طور پر یہ کئے جاتے ہیں کہ جو آسمان کی باتیں سنتا ہے حالانکہ آسمان کی باتیں سننے کا تو حکم ہے اور پھر وہ ہوتی ہی سنانے کے لئے ہیں، اس لئے اس کے یہ معنے نہیں ہو سکتے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی دنیا میں خدا تعالیٰ کی باتوں کو بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور دنیا میں فساد واقع ہو جاتا ہے اُس وقت آسمان سے ایک ستارہ گر ا کرتا ہے جو پھر صداقت کو دنیا میں قائم کر دیتا ہے اور بگڑی ہوئی مخلوق کو درست کر دیتا ہے۔مجددین کی بعثت کی خبر اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کونسا ستارہ ہے جو اس موقع پر گرا کرتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیا تشریح کی ہے؟ اس غرض کے لئے جب ہم احادیث کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اُن میں یہ ارشاد نظر آتا ہے کہ اِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأسِ كُلّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا " یعنی میری امت کے لئے اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک ایسا شخص مبعوث فرما یا کرے گا جو امت کی خرابیوں کو دور کرے گا اور دین کا از سر نو احیاء کرے گا گویا جس چیز کو قرآن کریم نے شہاب مبین قرار دیا ہے ، اُس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روحانی انسان قرار دیا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب کبھی دنیا میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کو بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے اُس وقت آسمان سے ایک ستارہ گرا کرتا ہے جو مبین ہوتا ہے، یعنی