سیر روحانی — Page 282
۲۸۲ کے معنے در حقیقت علی کے ہیں۔اسی قسم کے بعض اور بھی عقائد ہیں جو مصریوں سے مسلمانوں نے لئے۔مثلاً مصری لوگ تناسخ کے قائل تھے اور یہ عقیدہ بھی مصریوں سے مسلمانوں میں آیا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریبا نو (۹) سال بعد ہی مصر میں ایک شخص عبد اللہ بن سبات نامی پیدا ہو گیا تھا اور اُس نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوح دوبارہ دنیا میں آئے گی اور وہ قرآن کریم کی کئی آیتوں سے بھی استدلال کیا کرتا تھا۔یہ وہی شخص تھا جس نے پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی اور بعد میں اس نے اور اس کے ساتھیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی۔دراصل یہ مصری فلسفہ سے متاثر تھا اور مصری فلسفہ یہ تھا کہ روحیں مینار پر اُترتی ہیں۔شاید ان کے دلوں میں یہ خیال ہو کہ بزرگوں کی روحوں کے متعلق اگر یہ عقیدہ نہ رکھا گیا تو اس سے ان کی ہتک ہو گی اس لئے انہوں نے چاہا کہ کچھ ہم اپنے آپ کو اونچا کریں اور کچھ وہ نیچے اُتریں تا کہ اُن کا زمین پر نزول ان کے لئے ہتک کا موجب نہ ہو۔بہر حال کسی نہ کسی خیال کے ماتحت مصریوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ ارواح بلند جگہوں پر اُترا کرتی ہیں اور اسی غرض کے لئے وہ مینار تعمیر کیا کرتے تھے۔روشنی کا انتظام (۲) پھر مینار اس لئے بھی بنائے جاتے تھے کہ ان پر روشنی کی جائے اور دُور دُور سے لوگوں کو اس سے راہنمائی حاصل ہو چنانچہ چھاؤنیوں میں عموماً مینار بنائے جاتے ہیں اور ان میں روشنی کا باقاعدہ انتظام رکھا جاتا ہے اس روشنی کو دیکھ کر ڈور سے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ فلاں جگہ ہے یا فلاں جہت پر سفر کرنا زیادہ مفید ہے۔چونکہ پُرانے زمانے میں رات کو قافلے چلا کرتے تھے اس لئے میناروں کی روشنی سے انہیں بہت کچھ سہولت حاصل ہو جاتی تھی۔مینار کے معنوں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے چنانچہ عربی زبان میں مینار کے معنے مقامِ نور کے ہیں ہے یعنی جہاں نور کا سامان موجود ہو۔پس مینار اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ ان پر روشنی کی جاسکے اور اسی وجہ سے ان کا نام مینار ہؤا۔ستاروں کی گردشیں معلوم کرنے کی خواہش (۳) تیرے مینار اس لئے بنائے جاتے تھے کہ اُن کے ذریعہ سے آسمانی گردشوں کا پوری طرح علم ہو اور غیب کی خبریں معلوم کی جاسکیں۔واقع یہ ہے کہ زمین پر ہیئت کے سامان اتنی صفائی کے ساتھ ان گردشوں کو نہیں دیکھ سکتے جتنی صفائی کے ساتھ