سیر روحانی — Page 283
۲۸۳ اونچی جگہ سے دیکھ سکتے ہیں اسی لئے دُور بینیں ہمیشہ اونچی جگہ پر لگائی جاتی ہیں۔پس مینار بنانے کی تیسری وجہ یہ ہو ا کرتی تھی کہ لوگ ان پر آلات ہیئت رکھ کر ستاروں کی گردشوں کا علم حاصل کرتے تھے تا کہ انہیں غیب کی خبر میں معلوم ہوسکیں اور آئندہ کے اسرار اُن پر گھلیں۔ابھی پچھلے دنوں لاہور میں ایک رات ہزاروں ہزار لوگ کمروں سے نکل کر باہر میدانوں اور صحنوں میں سوئے کیونکہ کسی منجم نے یہ خبر اُڑا دی کہ اس رات ایک شدید زلزلہ آئے گا۔لوگ ڈر گئے اور وہ اپنے مکان چھوڑ کر باہر میدانوں اور باغوں میں نکل گئے حالانکہ یہ سب باتیں اسلامی تعلیم کے خلاف ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ قَالَ رُنَا بِنَوْءٍ كَذَا وَ كَذَا فَذَلِكَ فَهُوَ كَافِرٌ بِي وَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ جو شخص یہ کہے کہ فلاں ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی ہے یا فلاں ستارہ کا یہ اثر ہے ، وہ اسلام سے خارج ہے۔دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، سب کچھ اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے قانون کے ماتحت ہوتا ہے۔یہ خیال کہ ستاروں کی گردش سے انسان آئندہ کے حالات معلوم کر سکتا ہے، قطعی طور پر غلط ہے اور لاہور والوں نے اس کا اندازہ بھی لگالیا ،مگر مشکل یہ ہے کہ وہ لوگ جو دین سے پوری واقفیت نہیں رکھتے اس قسم کی غلط فہمیوں میں عموماً مبتلاء رہتے ہیں اور منجم بھی بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ مینار کے نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ستاروں کی گردش معلوم کرنے میں غلطی لگ گئی ہے۔یہی حال رمالوں ، جوتشیوں اور پامسٹوں کا ہوتا ہے۔ایک احمدی نجومی کا واقعہ میرے پاس ایک دفعہ ایک احمدی نجومی آیا اور اس نے کہا، میں آپ کو کچھ کرتب دکھانا چاہتا ہوں۔میں نے کہا، میں اس کو سمجھتا تو لغو ہی ہوں ، مگر تمہاری خواہش ہے تو دکھا دو۔اس نے کہا میں نے یہ بات آپ سے اس لئے کہی ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھے یہ فخر حاصل ہو جائے کہ میں نے آپ کے سامنے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔اس کے بعد اس نے کہا، آپ اپنے دل میں کوئی فارسی شعر رکھیں۔میں نے فارسی نہیں پڑھی کیونکہ ہمارے اُستاد یہ سمجھتے تھے کہ فارسی کی تعلیم سے عربی کو نقصان پہنچتا ہے۔گومثنوی رومی وغیرہ تو میں نے پڑھی ہیں مگر فارسی کی باقاعدہ تعلیم میں نے حاصل نہیں کی اور ایسے آدمی کو عموماً معروف شعر ہی یاد ہوتے ہیں ، بہر حال میں نے اپنے دل میں سوچا کہ : - بخشائے برحال ما کریما کہ ہستم اسیر کمند ہوا