سیر روحانی — Page 281
۲۸۱ بادشاہوں کی قبریں بلند میناروں کی شکل میں بنایا کرتے تھے مگر چونکہ اُس وقت تک حساب کا علمی ابھی مکمل نہیں ہو ا تھا اس لئے وہ سیدھا اور گول مینار بنانے کی بجائے اس شکل کی عمارات بنایا کرتے تھے A یعنی ان کی چوٹی تو صرف چند مربع گز کی ہوتی تھی ، لیکن بنیاد ہزاروں مربع گز میں ہوتی تھی ، بعد میں جب حساب مکمل ہوا اور بنیادوں اور سدھائی کا علم ہوا تو سیدھے گول میناروں کا رواج ہو گیا۔میں جب مصر میں گیا تھا تو میں نے بھی ان میناروں کو دیکھا تھا یہ اتنے بلند مینار ہیں کہ اچھا قوی اور مضبوط آدمی بھی ان پر چڑھتے چڑھتے تھک جاتا ہے۔آج بھی انجینئر جب ان میناروں کو دیکھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ اُس زمانہ میں ناقص انجینئر نگ کے باوجود انہوں نے کتنی بلند و بالا عمارتیں کھڑی کر دیں۔در حقیقت یہ مینار نہیں بلکہ قبریں ہیں جو بادشاہوں کے لئے بنائی جاتی تھیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان میناروں کے ذریعہ سے آسمانی ارواح ان کے بزرگوں کے نزدیک ہو جاتی ہیں۔حضرت مسیح کے مینار پر اترنے کا عرض مصری لوگ یہ مینار آسمانی روحوں کے ساتھ ملنے کے لئے بنایا کرتے تھے، مسلمانوں میں عقیدہ مسلمانوں میں کس طرح آیا حضرت مسیح کے مینار پر سے اترنے کا عقیدہ بھی اسی بناء پر پیدا ہوا ہے۔احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مسیح عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ نازل ہو گا۔یعنی وہ سفید مینار کے قریب اُترے گا۔اس حدیث کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان اس عقیدہ میں مبتلا ہو گئے کہ مسیح مینار پر اُترے گا حالانکہ حدیثوں میں عَلَى الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ کے الفاظ نہیں بلکہ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ کے الفاظ ہیں جو ان کے اس خیال کی تردید کر رہے ہیں کہ مسیح مینار پر اُترے گا بہر حال مسلمانوں میں اس خیال کا پیدا ہو جانا کہ مسیح مینار پر اُترے گا بتاتا ہے کہ انہوں نے پرانی روایات اور احادیث کو محفوظ کر دیا۔انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ حدیث میں عِندَ کا لفظ ہے علی کا لفظ نہیں اس کی وجہ در حقیقت یہی تھی کہ جب اسلام مصر میں پھیلا تو کئی مصری عقائد مسلمانوں میں بھی آگئے جن میں سے ایک یہ بھی عقیدہ تھا کہ ارواح مینار پر اُترتی ہیں۔پہلے انہوں نے سمجھا کہ مسیح آسمان سے اُترے گا پھر انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ جب روحیں مینار پر اترا کرتی ہیں تو یہاں عِندَ