سیر روحانی — Page 250
۲۵۰ سے دنیا کی کوئی طاقت اسے نیا ناک نہیں دے سکتی۔اور ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو خوشبو اور بد بو میں اپنے ناک کی خرابی کی وجہ سے تمیز نہیں کر سکتے۔حضرت خلیفہ اول نے جب ہمیں طب پڑھائی ، تو آپ نے فرمایا۔ایک بیماری ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں ناک کی جس ماری جاتی ہے اور انسان خوشبو اور بد بو میں کوئی فرق نہیں کر سکتا۔چنانچہ یہاں ایک شخص تھا آپ نے فرمایا آنکھیں بند کر کے اگر اس کے سامنے پاخانے کا ٹھیکرا اور اعلیٰ درجے کا کیوڑے کا عطر رکھ دیا جائے تو وہ یہ نہیں بتا سکے گا کہ پاخانہ کونسا ہے اور عطر کونسا ؟ ایک لڑکی میری ایک عزیز کے پاس نوکر تھی ، ایک دن انہوں نے اُسے کہا کہ فلاں عطر اُٹھا کر لے آنا وہ کہنے لگی۔بی بی ! مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ یہ خوشبو وشبو کیا ہوتی ہے۔جب اُسے عطر سُونگھایا گیا تو معلوم ہوا کہ اُس کے ناک میں خوشبو سونگھنے کی جس ہی نہیں۔تو جس طرح چہرہ پہلے ٹھیک ہو ، پھر پوڈر - خوبصورت معلوم ہوتا ہے ، اسی طرح ناک ٹھیک ہو تب خوشبو کا لطف آتا ہے اور اگر کسی کی ناک درست نہ ہو اور تم اُسے باغوں میں بھی لے جاؤ تو اُسے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہے۔دنیا میں مینا بازار والے عطر دے سکتے ہیں مگر ناک نہیں دے سکتے۔لیکن ہم کیا دیتے ہیں۔فَرَوح ہم سب سے پہلے خوشبو سونگھنے اور اس کو محسوس کرنے کی طاقت ناک میں پیدا کرتے ہیں روح کے معنے ہیں وِجُدَانُ الرَّائِحَةِ اور بھی معنے ہیں، لیکن ایک معنے یہ بھی ہیں پس فرمایا۔دنیا والے تو صرف عطر بیچتے ہیں ، مگر ہم پہلے لوگوں کو ایسا ناک دیتے ہیں جو عطروں اور خوشبوؤں کو محسوس کرے (روح) میرے اپنے ناک کی جس غیر معمولی طور پر تیز ہے، یہاں تک کہ میں دُودھ سے پہچان جاتا ہوں کہ گائے یا بھینس نے کیا چارہ کھایا ہے۔اسی لئے اگر میرے قریب ذرا بھی کوئی بدبودار چیز ہو تو مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے اور جو لوگ میرے واقف کار ہیں وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت کھڑکیاں وغیرہ کھول دیتے ہیں کیونکہ اگر بند ہوں تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے، میں ہمیشہ کثرت سے عطر لگایا کرتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی کثرت سے عطر لگایا کرتے تھے مگر حضرت خلیفہ اول کو اس طرف کچھ زیادہ توجہ نہیں تھی۔میں آپ سے بخاری پڑھا کرتا تھا، ایک دن میں آپ سے بخاری پڑھنے کے لئے جانے لگا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھے فرمانے لگے کہاں چلے ہو؟ میں نے کہا مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے چلا ہوں۔فرمانے لگے ، مولوی صاحب سے پوچھنا کیا بخاری میں کوئی ایسی حدیث بھی آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن غسل فرماتے اور نئے کپڑے بدلا