سیر روحانی — Page 251
۲۵۱ کرتے تھے اور خوشبو استعمال فرماتے تھے اصل بات یہ ہے کہ حضرت مولوی صاحب جمعہ کے دن بھی کام میں ہی مشغول رہتے تھے۔یہاں تک کہ اذان ہو جاتی اور کئی دفعہ آپ وضو کر کے مسجد کی طرف چل پڑتے۔آپ تھے تو میرے اُستاد مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات کہی تھی اس لئے میں نے اُسی طرح آپ سے جا کر کہہ دیا۔آپ ہنس پڑے اور فرمایا، ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی احتیاط کیا کرتے تھے ، ہم تو اور کاموں میں بُھول ہی جاتے ہیں۔میں نے تاریخ الخلفاء میں پڑھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا ، اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو عطر کی تجارت کیا کرتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے ناک کی جس بھی تیز تھی اور اس امر میں بھی میری اُن کے ساتھ مشابہت ہے۔تو ناک کی جس کا موجود ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی بھاری رحمت ہوتی ہے مگر دُنیا یہ جس کہاں دے سکتی ہے، وہ اپنے مینا بازاروں میں عطر فروخت کر سکتی ہے مگر ناک نہیں دے سکتی۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم پہلے ناک دیں گے اور پھر عطر (رَيْحَان) دیں گے، ناک نہ ملا تو عطر کا کیا فائدہ۔مثل مشہور ہے کہ ناک نہ ہوا تو نتھ کیا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، ہم جنتیوں کے ناک کی جس تیز کر دیں گے تا کہ وہ خوشبو کو محسوس کر سکیں اور اس کے بعد ریحان دیں گے ریحان کے معنے ہیں كُلُّ نَبَاتٍ طَيِّبِ الرِّيحِ کے یعنی ہر خوشبو دار چیز اُن کو ملے گی۔وَجَنَّتُ نَعِیم اور پھر ساتھ اُن کے نعمتوں والی جنت بھی ہوگی۔یعنی یہ نہیں کہ خوشبو باہر سے آئے گی بلکہ جنت خوشبو سے بھری ہوئی ہوگی۔جسمانی طاقت کی دوائیں (۸) آٹھویں میں نے مینا بازار میں طاقت کی دوائیں دیکھیں۔کسی دوائی کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ معدہ کی طاقت کے لئے ہے، کسی دوائی کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ دل کی طاقت کے لئے ہے، کسی دوائی کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ دماغ کی طاقت کے لئے ہے اور اس طرح تحریص دلائی جاتی تھی کہ ان دواؤں کو کھاؤ پیو اور مضبوط بن کر دنیا کی نعمتوں سے حظ اُٹھاؤ۔پس میں نے کہا کہ آیا مجھے وہاں بھی طاقت کی دوائیں ملیں گی یا نہیں ؟ اس خیال کے آنے پر مجھے معلوم ہوا کہ ایک رنگ میں اس بات کا بھی انتظام ہو گا ، چنانچہ فرماتا ہے وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَلِدِينَ ٤٢ فرما یا طاقت کی دوائیں بیشک ہوتی ہیں مگر ہم وہاں نہیں دیں گے اور اس کی وجہ یہ ہے