سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 900

سیر روحانی — Page 246

۲۴۶ بِالْأُنثى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا ، کہ جب کسی کو لڑکی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو اُس کا منہ کالا ہو جاتا ہے۔اب اس کے یہ معنے تو نہیں کہ اُس کا منہ واقع میں کالا ہو جاتا ہے بلکہ اس کی کا مطلب صرف یہ ہے کہ اُس کے دل پر بوجھ پڑتا ہے اور اُسے سخت صدمہ اور غم پہنچتا ہے۔اسی طرح اُن کے نزدیک يَوْمَ تَبْيَضُ وُجُوهٌ کے یہ معنے ہیں کہ اُس دن جنتیوں کی نیکی اور تقویٰ اور عزت کی وجہ سے اُن کے چہروں پر نور برستا معلوم ہو گا اور خدا تعالیٰ کے انوار ان پر نازل ہونگے یہ معنے بھی درست ہیں اور ان کا انکار نہیں ہوسکتا۔کریمیں ، پوڈر اور سُرخی اب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں مرد وعورت اپنی زینت کے لئے کیا کیا چیزیں استعمال کرتے ہیں سو : - اول :- وہ ایسی کریمیں ملتے ہیں جن سے جسم نرم اور ڈھیلا ہو جائے ، مسام کھل جائیں، مساموں سے زہر اور میل نکل جائے اور سفیدی پیدا ہو جائے۔دوم: وہ ایسی کریمیں ملتے ہیں جن سے وہ پھر پست ہو جائیں ، اُن کے مسام سکڑ جائیں اور اُن کے چہروں پر رونق پیدا ہو جائے ، گویا پہلے تو وہ ایسی چیزیں ملتے ہیں جن سے اُن کے مسام کھل جائیں اور میل وغیرہ نکل جائے اور پھر ایسی چیز میں ملتے ہیں جن سے اضمحلال اور اعضاء کا استرخاء جاتا رہے۔اسی طرح پوڈر لگاتے ہیں تا کہ سفیدی ظاہر ہو اور پھر سُر خیاں لگاتے ہیں تا کہ دوسروں کو جسم سے صحت کے آثار نظر آئیں۔اب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو وہ فرماتا ہے۔وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ * یہاں تم پوڈر اور کریمیں وغیرہ لگاتے ہو اور تم نہیں جانتے کہ قیامت کے دن کچھ منہ ہوں گے جو نَاضِرَہ ہوں گے نَاضِرہ کے معنے عربی میں حُسن اور رونق کے ہیں اور یہ دونوں الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں۔حُسن کے معنے تناسب اعضاء کے ہوتے ہیں اور رونق کے معنے صحت کے اُن آثار کے ہوتے ہیں جو چہرے اور قومی سے ظاہر ہوتے ہیں۔اگر ایک شخص کا ناک پچکا ہوا ہو، مگر اس کے کلے اور ہونٹ سُرخ ہوں اور اُس کا رنگ سفید ہو تو اس کے چہرے کی رنگت اُسے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔اسی طرح اگر کسی شخص کی آنکھیں خراب ہیں یا اتنی بڑی بڑی ہیں جیسے مٹکے ہوتے ہیں یا ما تھا ایسا چھوٹا ہوتا ہے کہ سر کے بال بھووں سے ملے ہوئے ہیں۔یا کلے اتنے پچکے ہوئے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہو گویا کہ دو تختیاں جوڑ کر رکھدی گئی ہیں تو وہ ہر گز حسین نہیں کہلا سکتا۔میں نے غور کر کے دیکھا ہے ، مختلف انسانی چہرے مختلف جانوروں سے مشابہت