سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 900

سیر روحانی — Page 247

۲۴۷ رکھتے ہیں اور اگر ایک پہلو سے انسانی چہروں کو دیکھا جائے تو بعض انسانی چہرے گیدڑ سے مشابہ معلوم ہوتے ہیں ، بعض گتے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں ، بعض سور کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں۔بعض بنی اور بعض چوہے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں۔کامل اور اچھا چہرہ وہ ہوتا ہے جس کی ان جانوروں سے کم سے کم مشابہت پائی جاتی ہو اور اگر لوگ کوشش کریں تو وہ اس نقص کو دُور کر سکتے ہیں مگر چونکہ میرا یہ مضمون نہیں اس لئے میں اس نقص کو دور کرنے کے طریق نہیں بتا سکتا صرف اجمالاً ذکر کر دیا ہے کہ اکثر انسانی چہرے بعض جانوروں کے مشابہ ہوتے ہیں۔وہ زیادہ تر یہی کوشش کرتے ہیں کہ کریمیں مل لیں یا لپ سٹکیں استعمال کر لیں یا روج لگا لیں ، مگر چہرہ کی بناوٹ کو درست کرنے کے جو صحیح طریق ہیں اُن کو اختیار کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کریموں اور غازوں اور لپ سٹکوں سے کیا بنتا ہے؟ اصل چیز تو چہرے کی بناوٹ درست ہونا ہے اور ہمارے مینا بازار میں جانیوالے سب ایسے ہی ہوں گے کہ انہیں کسی فیس پوڈر کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اُن کے نقش و نگار درست کر کے انہیں وہاں لے جایا جائے گا۔اگر کوئی شخص کا نا ہوگا تو اُس کا کانا پن جاتا رہے گا لنگڑا ہو گا تو اُس کا لنگڑا پن جاتا رہے گا ، آنکھیں سانپ کی طرح باریک ہوں گی تو اُن کو موٹا کر دیا جائے گا، کسی کے دانت باہر نکلے ہوئے ہونگے تو اُس کے سب دانت موتیوں کی لڑی کی طرح بنا دیئے جائیں گے۔آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کے مقرب ہوں اور پھر عیب دار ہوں ، یقیناً اللہ تعالیٰ اُن کے تمام عیبوں کو دُور کر کے انہیں جنت میں داخل کریگا۔ایک لطیفہ حدیثوں میں ایک لطیفہ آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ وعظ فرما رہے تھے کہ ایک بُڑھیا آئی اور کہنے لگی ، يَارَسُولَ اللَّهِ ! یہ باتیں چھوڑیں اور مجھے یہ بتائیں کہ میں جنت میں جاؤں گی یا نہیں؟ اب اُس کا یہ سوال بے وقوفی کا تھا مگر چونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے بھی بہت دق کیا کرتی تھی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس وقت مذاق سُوجھا اور آپ نے فرمایا، مائی ! جہاں تک میرا علم ہے کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔وہ یہ سنتے ہی رونے پیٹنے لگ گئی کہ ہائے ہائے! میں دوزخ میں جاؤنگی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے کب کہا ہے کہ تم دوزخ میں جاؤ گی۔اُس نے کہا کہ آپ نے ابھی تو فرمایا ہے کہ کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔آپ نے فرما یا روڈ نہیں وہاں سب کو جوان بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔بوڑھے ہونے کی حالت میں جنت میں