سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 900

سیر روحانی — Page 245

۲۴۵ ہوا کرتے تھے اور بعد میں بھی میرے اُن سے گہرے تعلقات رہے۔انہیں قرآن مجید پڑھنے کا بہت شوق تھا وہ اُس وقت بھی کشتی میں حسب عادت اونچی آواز میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔میں یہ تماشہ دیکھنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب اُس کا رنگ کس طرح سفید کرتے ہیں۔آخر تھوڑی دیر کے بعد سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے قرآن کریم بند کیا اور درمیان میں بول پڑے اور اُسے کہنے لگے ڈاکٹر صاحب تم کو کوئی نسخہ نہیں بتا سکتے۔اس دنیا میں تمہارا رنگ کا لا ہی رہے گا البتہ ایک نسخہ میں تمہیں بتاتا ہوں قرآن کریم میں لکھا ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے گا اُس کا قیامت کے دن مُنہ سفید ہو گا۔پس اس دنیا میں تو تمہارا رنگ سفید نہیں ہوسکتا تم قرآن پر عمل کرو تو قیامت کے دن تمہارا رنگ ضرور سفید ہو جائے گا۔زینت کے یہ سامان بھی جو میں بتانے لگا ہوں اسی قسم کے ہیں جس قسم کی طرف سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے اشارہ کیا تھا۔سفید رنگ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ " دُنیا میں اگر کوئی کالا ہے تو گورا نہیں ہو سکتا ، بدصورت ہے تو خوبصورت نہیں ہوسکتا ، اندھا ہے تو سو جا کھا نہیں ہوسکتا ، نکٹا ہے تو ناک والا نہیں بن سکتا۔کوئی شخص ہزار کوشش کرے صابن کی ٹکیوں سے اپنے منہ کو صبح و شام مل مل کر دھوئے۔اگر اس کا رنگ سیاہ ہے تو وہ سفید نہیں ہوگا اور پیدائشی حالت کبھی بدل نہیں سکے گی۔کالجوں کے طلباء میں بھی یہ مرض بہت ہوتا ہے اور وہ کئی قسم کی کریمیں ملتے رہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اُن کی جو شکل بنا دی ہے وہ بدل نہیں سکتی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تم اپنا رنگ سفید کرنے کے لئے کہیں پیئر ز سوپ ملتے ہو، کہیں ونولیا سوپ خریدتے ہو۔کہیں پام آئل (PALM OIL) سوپ استعمال کرتے ہو مگر پھر بھی تمہارا رنگ نہیں بدلتا۔آؤ ہم تمہیں بتاتے ہیں يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ ایک دن ایسا آنیوالا ہے جب مؤمنوں کے منہ سفید براق ہو جائیں گے، پھر دنیا میں تو سفید رنگ والے بھی کالے ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ذرا بیمار ہوں تو اُن کے رنگ کالے ہو جاتے ہیں۔بعض لوگ بیماریوں میں اندھے اور کانے ہو جاتے ہیں مگر فرمايا وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتُ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ ١٥ ہمارے مینا بازار میں جن لوگوں کے منہ سفید ہوں گے وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سایہ تلے رہیں گے اور کبھی اُن کا رنگ خراب نہیں ہو گا۔بعض لوگ اس موقع پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ قرآن کریم کے اس قسم کے الفاظ ظاہری معنوں میں نہیں لینے چاہئیں، چنانچہ دیکھو قرآن کریم میں ہی آتا ہے۔وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمُ