سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 900

سیر روحانی — Page 234

۲۳۴ ہے لَا فِيهَا غَوْلٌ وَّلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ ^ غول کے معنی عربی میں عقل اور بدن کی صحت کے چلے جانے اور خمار کے پیدا ہو جانے کے ہیں۔۲۹ پس لا فِيهَا غَولٌ کے معنے یہ ہوئے کہ اس سے عقل ضائع نہیں ہو گی ، بدن کی صحت پر کوئی بُرا اثر نہیں پڑے گا اور پینے کے بعد خمار نہیں ہوگا۔یہ تین عیب ہیں جو دنیا میں شراب پینے سے پیدا ہوتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے مینا بازار کی جو شراب ملے گی اُس سے نہ عقل خراب ہو گی اور نہ صحت کو کوئی نقصان پہنچے گا۔یہاں شراب پینے والوں کو رعشہ ہو جاتا ہے گنٹھیا کی شکایت ہو جاتی ہے اور جب نشہ اترتا ہے تو اُس وقت بھی انہیں خمار سا ہوتا ہے اور اُن کے سر میں درد ہوتا ہے، لیکن اس مینا بازار میں جو شراب ملے گی اُس میں اِن نقائص میں سے کوئی نقص نہیں ہوگا۔اسی طرح نزف کے معنے ہوتے ہیں ذَهَبَ عَقْلُهُ اَوْ سُكِّرَ ۵۰ یعنی عقل کا چلے جانا اور بہکی بہکی باتیں کرنا۔یہ بات بھی ہر شرابی میں نظر آ سکتی ہے۔خود مجھے ایک شرابی کا واقعہ یاد ہے جو میرے ساتھ پیش آیا ، اب تو میں حفاظت کے خیال سے سیکنڈ کلاس میں سفر کیا کرتا ہوں لیکن جس زمانہ کی یہ بات ہے اس زمانہ میں میں تھرڈ کلاس میں سفر کیا کرتا تھا، مگر اتفاق ایسا ہوا کہ اُس دن تھرڈ کلاس میں سخت پھیری تھی میں نے سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ لے لیا مگر سیکنڈ کلاس کا کمرہ بھی ایسا بھرا ہوا تھا کہ بظاہر اس میں کسی اور کے لئے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی تھی۔چھوٹا سا کمرہ تھا اور اٹھارہ ہیں آدمی اس میں بیٹھے ہوئے تھے۔بہر حال جب میں اس کمرہ میں گھسا تو ایک صاحب جو اندر بیٹھے ہوئے تھے وہ مجھے دیکھتے ہی فوراً کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے کہنے لگے تمہیں شرم نہیں آتی کہ خود بیٹھے ہو اور یہ کھڑے ہیں ان کے لئے بھی جگہ بناؤ تا کہ یہ بیٹھیں۔میں نے سمجھا کہ گومیں انہیں نہیں جانتا مگر یہ میرے واقف ہوں گے۔چنانچہ اُن کے زور دینے پر لوگ اِدھر اُدھر ہو گئے اور میرے بیٹھنے کے لئے جگہ نکل آئی۔جب میں بیٹھ گیا تو وہی صاحب کہنے لگے کہ آپ کیا کھا ئیں گے؟ میں نے کہا آپ کی بڑی مہربانی ہے مگر یہ کھانے کا وقت نہیں میں لاہور جا رہا ہوں وہاں میرے عزیز ہیں وہاں سے کھانا کھا لوں گا۔کہنے لگے نہیں پھر بھی کیا ہے کھائیں گے؟ میں نے کہا عرض تو کر دیا کہ کچھ نہیں۔اس پر وہ اور زیادہ اصرار کرنے لگے اور کہنے لگے اچھا فرمائیے کیا کھائیں گے؟ میں نے کہا بہت بہت شکریہ میں کچھ نہیں کھاؤں گا۔کہنے لگے اچھا تو پھر فرمائیے نا کہ آپ کیا کھائیں گے؟ میں اب گھبرایا کہ یہ کیا مصیبت آ گئی