سیر روحانی — Page 233
۲۳۳ کے منافع سے فائدہ نہیں پہنچایا جا سکتا؟ یہ خیال میرے دل میں آیا تو میں نے دیکھا کہ یہ چیز اس مینا بازار میں بھی موجود تھی چنانچہ میں نے ایک بورڈ دیکھا جس پر لکھا تھا وَ اَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لذَّةٍ لِلشَّرِبِينَ " وہاں شراب کی نہریں بہتی ہوں گی جو پینے والوں کے لئے بڑی لذت کا موجب ہوں گی۔ایک اعلیٰ درجہ کی سر بمہر شراب میں نے کہا اوہو! دنیا میں شراب تو صرف مٹکوں میں ہوتی ہے مگر یہاں نہروں کی صورت میں ہوگی اور اتنی کثرت سے ہوگی کہ اس کی کوئی حد بندی ہی نہیں ہوگی مگر اس کے ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ مٹکوں کی شراب کو گورنمنٹ اعلیٰ نہیں سمجھتی اور وہ اس کی بجائے ولایتی شراب بوتلوں میں بند کر کے بھیجتی ہے جو اپنے اثر اور ذائقہ میں زیادہ بہتر سمجھی جاتی ہے، میں نے کہا کہ اس مینا بازار میں تو شراب میں فرق کیا جاتا ہے ، کیا اُس مینا بازار میں بھی ایسا فرق ہے؟ جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہاں بھی دو قسم کی شراب ہو گی ایک وہ جو نہروں کی صورت میں ہوگی اور گویا مٹکوں والی شراب کی قائم مقام ہوگی اور دوسری شراب وہ ہوگی جو بوتلوں میں بند ہوگی چنانچہ فرماتا ہے يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّحْتُومٍ خِتَمُهُ مِسْک ۲۵ اس نہروں والی شراب کے علاوہ ایک اور شراب بھی وہاں ہو گی جو بوتلوں میں بند ہو گی جس پر مہریں لگی ہوئی ہوں گی اور جوایسی اعلیٰ درجہ کی ہوگی کہ اُس کی تلچھٹ سے بھی مُشک کی خوشبو اپنے اندر رکھتی ہو گی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی شراب میں فرق ہو گا، ایک تو عا م شراب ہو گی جیسے بیئر (BEAR) وغیرہ اور ایک اعلیٰ درجہ کی شراب ہو گی جو آقا کا خاص تحفہ ہوگی اور سر بمہر ہر گی اور اس کی دُرد ، مُشک کی ہوگی۔ہو روحانی شراب کی ایک عجیب خصوصیت تب میں نے سوچا کہ دنیوی شراب تو عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے صحت برباد کر دیتی ہے انسان کو خمار ہو جاتا ہے وہ گند بکنے لگ جاتا ہے اور اس کے خیالات ناپاک اور پریشان ہو جاتے ہیں۔بیشک شراب میں کچھ فائدے بھی پائے جاتے ہیں لیکن انہی عیوب کی وجہ سے دنیا کی پچاس ساٹھ سالہ زندگی بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ شراب نہ پیو، پھر ہمیشہ کی زندگی میں اس کے استعمال کو جائز کیوں رکھا گیا اور کیا ایسا تو نہیں ہوگا کہ اس شراب کو پی کر میں اپنی عبودیت کو بھول جاؤں؟ اس پر میں نے دیکھا کہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرما رہا