سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 900

سیر روحانی — Page 235

۲۳۵ ہے۔اس سے پہلے میں نے کسی شرابی کو نہیں دیکھا تھا اس لئے میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ اپنے ہوش میں نہیں۔اتنے میں ایک سکھ صاحب کمرہ میں داخل ہوئے اس پر وہ پھر کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے کہنے لگے، تمہیں شرم نہیں آتی کمرہ میں ایک بھلا مانس آیا ہے اور تم اُس کے لئے جگہ نہیں نکالتے۔اور یہ بات کچھ ایسے رُعب سے کہی کہ لوگوں نے اس کے لئے بھی جگہ نکال دی۔جب وہ سکھ صاحب بیٹھ چکے تو دو منٹ کے بعد وہ اُن سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے سردار صاحب کچھ کھا ئیں گے؟ میں نے اُس وقت سمجھا کہ یہ شخص پاگل ہے اتنے میں ایک اور شخص کمرہ میں داخل ہو گیا۔اس پر وہ انہی سردار صاحب کو جن کو چند منٹ پہلے بڑے اعزاز سے بٹھا چکا تھا کہنے لگا تمہیں شرم نہیں آتی کہ خود بیٹھے ہو اور اس کے لئے جگہ نہیں نکالتے۔آخر میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو اس نے بتایا کہ انہوں نے شراب پی ہوئی ہے اس پر میں اگلے سٹیشن کے آتے ہی وہاں سے کھسک گیا اور میں نے شکر کیا کہ اُس نے مجھ کو جھاڑ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔تو شراب انسانی عقل پر بالکل پردہ ڈال دیتی ہے ، مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَاهُمُ اث عَنْهَا يُنْزَفُونَ نہ انہیں نشہ چڑھے گا اور نہ بیہودہ باتیں کریں گے۔پاکیزہ مذاق اس طرح فرماتا ہے يَتَنَازَعُونَ فِيْهَا كَأْسًا لَّا لَغُوْ فِيْهَا وَلَا تَأْثِيمٌ مؤمن وہاں آپس میں بڑی صلح صفائی اور محبت پیار سے رہیں گے اور جس ہنسی مذاق میں ایک بھائی دوسرے بھائی سے کوئی چیز چھین کر لے جاتا ہے اسی طرح وہ ایک دوسرے سے چھین چھین کر کھائیں گے۔یہ نہیں کہ اُن کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوگا جس کی وجہ سے انہیں چھینا پڑے گا بلکہ اُن کے پاس ہر چیز کی کثرت ہوگی ، یہاں تک کہ دُودھ اور شہد اور پانی کی نہریں چل رہی ہوں گی مگر پھر بھی وہ محبت اور پیار کے اظہار کے لئے ایک دوسرے سے پیالے چھین چھین کر پیئیں گے۔مگر دنیا میں تو اس چھینے کے نتیجہ میں کئی دفعہ لڑائی ہو جاتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ایک کہتا ہے تم بڑے خبیث ہو اور دوسرا کہتا ہے تم بڑے خبیث ہو مگر فرمایا لَا لَغُوفِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ وہاں قلوب اتنے صاف ہوں گے کہ انسان کے دل میں اس سے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوگی کہ اُس کی کے بھائی نے اس سے پیالہ چھین لیا ہے بلکہ اُن کی آپس کی محبت اور زیادہ ترقی کرے گی اور وہ اور زیادہ نیک اور پاک بن جائیں گے۔اس سے معلوم ہؤا کہ نہ صرف وہ شراب پاک