سیر روحانی — Page 223
۲۲۳ یہ طوق اُن گنا ہوں ، غلطیوں اور بیوقوفیوں کا تھا جو مجھے گردن نہیں اُٹھانے دیتی تھیں اور یہ زنجیریں، اُن بد عادات کی تھیں جو مجھے آزادی سے کوئی کام نہیں کرنے دیتی تھیں۔بس میں اسی طرح ہاتھ ہلانے پر مجبور تھا جس طرح میری زنجیریں مجھے ہلانے کی اجازت دیتی تھیں اور یہ بیٹریاں اُن غلط تعلیموں کی تھیں جو غلط مذاہب اور غلط قومی رواجوں نے میرے پاؤں میں ڈال رکھی تھیں اور جو مجھے چلنے پھرنے سے روکتی تھیں۔تب میں حیران ہو ا کہ انسان اپنے آپ کو کیوں آزاد کہتا ہے حالانکہ وہ بدترین غلامی میں جکڑا ہوا ہے نہ ہاتھوں کی ہتھکڑیاں اُسے کام کرنے دیتی ہیں ، نہ پاؤں کی بیٹریاں اُسے ملنے دیتی ہیں اور نہ گردن کا طوق اُسے سر اٹھانے دیتا ہے۔یہ طوق اُن گنا ہوں ،غلطیوں اور بیوقوفیوں کا ہوتا ہے جو اس کی گردن میں ہوتا ہے۔مختلف گناہ ، مختلف غلطیاں اور مختلف بیوقوفیاں وہ کر چکا ہوتا ہے اور اس کے نتائج اس کے ارد گرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔وہ چاہتا ہے کہ ان سے نجات حاصل کرے مگر انہوں نے اُس کو گردن سے پکڑا ہوا ہوتا ہے اور اُسے کوئی بھاگنے کی جگہ نظر نہیں آتی۔اسی طرح جو زنجیریں ہوتی ہیں وہ بد عادات کی ہوتی ہیں۔درحقیقت بد عادات اور بدعمل میں فرق ہے۔بد عمل ایک انفرادی شے ہے کبھی ہوا کبھی نہ ہوا، مگر بد عادت ہمیشہ زنجیر کے طور پر چلتی ہے اور وہ انسان کو آزادی سے کوئی کام نہیں کرنے دیتی وہ چاہتا ہے کہ نماز پڑھے مگر اُسے عادت پڑی ہوئی ہے کہ کسی بُری مجلس میں بیٹھ کر شطر نج یا جوا یا تاش کھیلنے لگ جاتا ہے تو اب باوجود نماز کی خواہش کے وہ نماز پڑھنے نہیں جائے گا بلکہ شطرنج یا تاش کھیلنے چلا جائیگا۔اسی طرح بیٹریاں غلط تعلیموں کی ہوتی ہیں جو غلط مذاہب یا غلط قومی رواجوں کے ماتحت اس کے پاؤں میں پڑی ہوئی ہوتی ہیں اور جس طرح درخت زمین نہیں چھوڑ سکتا اسی طرح وہ انسان اپنی قوم سے الگ نہیں ہو سکتا۔تب میں حیران ہو ا کہ اوہو! انسان تو اپنے آپ کو آزاد سمجھ رہا تھا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک خطر ناک قیدی ہے۔اس کے پاؤں میں بیٹریاں پڑی ہوئی ہیں، اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہیں اور اس کے گلے میں طوق ہیں۔پس یہ تو پہلے ہی غلام ہے اور غلام بھی ایسے ظالم مالک کا جو اسے ہر وقت تباہی کی طرف لئے جاتا ہے۔پس میں نے کہا جب انسان پہلے ہی غلام ہے اور غلام بھی ایسے مالک کا جو اسے کچھ نہیں دیتا تو اس دوسری غلامی کے اختیار کر لینے میں اس کا کیا حرج ہے اس کے ساتھ تو ایک جنت کا وعدہ بھی ہے۔تب میں نے اُس داروغہ کی طرف داروغہ جنت نے تمام بیٹریاں کاٹ دیں! دیکھا جس کے سپر د مجھے کیا گیا تھا اور