سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 900

سیر روحانی — Page 222

۲۲۲ کو غلام بنا دینے کا۔بیشک اس مینا بازار میں اعلیٰ سے اعلیٰ چیز میں ملتی ہیں ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا غلام بننا کوئی آسان کام ہے اور کیا جان اور مال دوسرے کو دے دینا معمولی بات ہے۔دنیا میں کون شخص ہے جو غلامی کو پسند کرتا ہو پس میں نے اپنے دل میں کہا کہ مجھے غور کر لینا چاہئے کہ کیا یہ سودا مجھے مہنگا تو نہیں پڑے گا اور کیا اعلیٰ سے اعلیٰ چیزوں کے لالچ میں اپنا آپ دوسرے کے حوالے کر دینا موزوں ہے؟ پس میں نے کہا پہلے سوچ لو کہ غلام ہونا اچھا ہے یا یہ چیزیں اچھی ہیں۔غلامی کیوں بُری کبھی جاتی ہے؟ جب میں نے اس غلامی پر غور کیا کہ یہ کس قسم کی غلامی ہے اور یہ کہ کیا اس غلامی کو قبول کرنا اس بازار کے سامان کے مقابلہ میں گراں تو نہیں؟ تو میں نے سوچا کہ غلامی کیوں بُری ہوتی ہے اور پھر میرے دل نے ہی جواب دیا اس لئے کہ :- اوّل: اس میں انسان کی آزادی چھن جاتی ہے۔روم انسان کا سب کچھ دوسرے کا ہو جاتا ہے۔سوم: اس میں انسان کی خواہشات ماری جاتی ہیں۔چہارم : اس میں غلام اپنے عزیزوں سے جُدا ہو جاتا ہے۔بیوی بچوں سے نہیں مل سکتا بلکہ جہاں آقا کہے وہیں رہنا پڑتا ہے۔میں نے کہا یہ چار بُرائیاں ہیں جن کی وجہ سے غلامی کو نا پسند کیا جاتا ہے۔پس میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں آزاد ہو کر غلام کس طرح بن جاؤں اور کس طرح اس دھوکا اور فریب میں آجاؤں۔میں انہی خیالات میں تھا کہ یکدم میں نے دیکھا کہ قید و بند میں مبتلا انسان اپنی حماقت میں ( اور میں سے مراد اس وقت انسان ہے نہ کہ سے اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے میرا ذاتی وجود) جو اپنے آپ کو آزاد مجھ رہا تھا۔در حقیقت قید وبند میں پڑا ہو ا تھا۔میں نے دیکھا کہ میری گردن میں طوق تھا، میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور میرے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں، مگر میں یونہی اپنے آپ کو آزاد سمجھ رہا تھا، حالانکہ نہ ہتھکڑیاں مجھے کام کرنے دیتی تھیں، نہ پاؤں کی بیٹریاں مجھے چلنے دیتی تھیں ، نہ گردن کا طوق مجھے گردن اونچی کرنے دیتا تھا۔