سیر روحانی — Page 224
۲۲۴ میں نے یہ کہنا چاہا کہ اب تم مجھے اپنی بیٹریاں اور زنجیریں اور طوق ڈال دو میں پہلے ہی غلام تھا اور اب بھی غلام بنے کو تیار ہوں، مگر میں نے یہ عجیب بات دیکھی کہ بجائے اس کے کہ اُس داروغہ کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں ، بیٹیاں اور طوق ہوں اُس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا کلہاڑا تھا اور جب میں نے کہا میں غلام بنے کو تیار ہوں، تو وہ داروغہ محبت سے میری طرف دیکھنے لگا اور بجائے اس کے کہ میرے گلے اور ہاتھوں اور پاؤں میں نئی جہتھکڑیاں ، نئی بیٹریاں اور نئے طوق ڈالتا اُس کی نے مجھے اپنے پاس بٹھا کر اُس کلہاڑے سے میری سب زنجیریں، سب بیٹریاں اور سب طوق کاٹ دیئے اور میں نے پہلی مرتبہ آزادی کا سانس لیا مگر ساتھ ہی میں اس امید میں رہا کہ پہلی زنجیریں ، بیٹریاں اور طوق کاٹنے کے بعد اب یہ نئی زنجیریں ، نئی بیٹریاں اور نئے طوق مجھے ڈالے گا مگر ایسا نہ ہونا تھا نہ ہوا بلکہ آسمان سے ایک نہایت ہی پیاری آواز آئی جو یہ تھی کہ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيِّ الَّذِى يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمُ فِي التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوابِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِى أُنْزِلَ مَعَةٌ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۲۷ وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اُس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہمارا نبی ہے اور اُمّی ہے اور جس کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی موجود ہے وہ انہیں اچھی باتوں کی تعلیم دیتا ہے اور انہیں بُری باتوں سے روکتا ہے اور ساری حلال چیزوں کی انہیں اجازت دیتا ہے اور ان باتوں سے انہیں روکتا ہے جو مضر ہوتی ہیں اور انہوں نے غلاموں کی طرح اپنے سروں پر جو بوجھ لادے ہوئے تھے انہیں ان کے اوپر سے دُور کر دیتا ہے، اسی طرح لوگوں کے گلوں میں جو طوق پڑے ہوئے تھے انہیں ہمارا یہ رسول کاٹ کر الگ پھینک دیتا ہے۔پس وہ لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں آپ کی مدد کرتے اور اس نور کے پیچھے چلتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، اُن کے ہاتھوں اور پاؤں میں کبھی ہتھکڑیاں اور بیٹریاں نہیں رہ سکتیں اور نہ اُن کی گردنوں میں طوق ہو سکتے ہیں بلکہ وہ ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، پاؤں میں بیٹریاں اور گردن میں طوق پڑے ہوئے ہیں، میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتا تھا مگر جب مجھے اپنی حقیقت