سیر روحانی — Page 221
۲۲۱ اور تم ہی یہ کھجوریں کھا لو، ۲۵ میں نے کہا یہ عجیب نظارے ہیں جو اس مینا بازار میں نظر آتے ہیں کہ جنت یعنی مینا بازار کا سب سامان صرف اس طرح مل جاتا ہے کہ جو پاس ہے وہ دے دو۔جس کے پاس کروڑ روپیہ ہوتا ہے وہ کروڑ روپیہ دے کر سب چیزوں کا مالک ہو جاتا ہے اور جس کے پاس ایک پیسہ ہوتا ہے وہ ایک پیسہ دے کر سب چیزوں کا مالک ہو جاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا اُسے خریدار اپنے پاس سے کچھ رقم دے کر کہتا ہے لو اس مال سے تم سودا کر لو تم کو جنت مل جائیگی۔روحانی مینا بازار میں گاہک کا تاجروں سے نرالا سلوک پھر میں نے ایک اور فرق دیکھا کہ عام مینا بازاروں میں تو یہ ہوتا ہے کہ گا ہک آئے انہوں نے چیزیں خریدیں اور انہیں اُٹھا کر اپنے گھروں کو چلے گئے اور دکاندار بھی شام کے وقت پیسے سمیٹ کر اپنے اپنے مکانوں کو روانہ ہو گئے۔مگر اس مینا بازار میں گاہک چیزیں خریدنے کے بعد وہیں چیزیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لے جا تا گویا وہی یوسف والا معاملہ ہے کہ غلہ بھی دے دیا اور پیسے بھی بوریوں میں واپس کر دیئے۔اسی طرح ایک طرف تو قرآنی گاہک جان اور مال لیتا ہے اور اُدھر چُپ کر کے کھسک جاتا ہے، دکاندار سمجھتا ہے کہ شاید وہ بھول گیا ہے، چنانچہ وہ کہتا ہے آپ اپنی چیزیں لے جائیں ، مگر وہ کہہ کر چلا جاتا ہے کہ ان چیزوں کو اپنے پاس ہی امانتا رکھو اور مناسب طور پر اس میں سے خرچ کرنے کی بھی تم کو اجازت ہے مجھے جب ضرورت ہوئی لے لوں گا۔گویا قیمت لے کر وہ پھر قیمت واپس کر دیتا ہے اور کہتا ہے تم اسے اپنے پاس ہی رکھو، جس قدر موقع کے مناسب ہو گا میں تم سے لے لونگا چنانچہ میں نے دیکھا کہ مال اور جان مینا بازار کی سب چیزوں کے مقابل پر لے کر وہ جان اور مال دینے والوں سے کہتا ہے۔وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ " وہ ساری جان اور سارا مال گو میرے حوالے کر دیتے ہیں ، مگر میں ساری جان اور سارا مال اُن سے عملاً نہیں لیتا ، بلکہ اُنہی کو دیکر کہتا ہوں کہ اس میں سے کچھ میرے لئے خرچ کرو اور باقی پنے پاس رکھو اور اپنے کام میں لاؤ اور اس سے نہ ڈرو کہ میں نے جو قیمت دی ہے اُس میں کمی ہوگی وہ تم کو پوری ملے گی۔جان اور مال کا مطالبہ اب میں نے غور کیا کہ گو یہ نرالا اور عجیب سودا ہے ، لیکن آخر اس میں عجیب سو دے کا مطالبہ بھی تو کیا گیا ہے ، یعنی اپنے آپ