سیر روحانی — Page 212
۲۱۲ پہلوں کے لئے پچھلے یہ دعا کرتے رہتے ہیں تو لازماً مرنے والے اپنے مقام میں بڑھتے جاتے ہیں اور پھر لازماً ان کے شایانِ شان ان کا روحانی مقبرہ بھی زیادہ شاندار ہوتا جاتا ہے۔شیعوں کا صحابہ کو بُرا بھلا کہنا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے پھر فرماتا ہے یہ بھی دعا کیا کرو کہ ہمارے دل میں ان کے متعلق کوئی بغض پیدا نہ ہو، اس آیت سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ شیعوں کا یہ کیسا خطرناک عقیدہ ہے کہ وہ صحابہ سے عداوت رکھنے اور ان کو بُرا بھلا کہنے میں ہی اپنی نجات سمجھتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں تب مؤمن سمجھوں گا جب تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لئے دعائیں کرتے رہو گے اور اُن کا کینہ اور بغض اپنے دلوں میں نہیں رکھو گے، مگر آج یہ سمجھا جاتا ہے کہ اُن سے کینہ اور بغض رکھنا ہی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔اب تھوڑے دنوں تک محترم کا مہینہ آنیوالا ہے ان ایام میں کس طرح تبرا کیا جاتا اور ابوبکر، عمر اور عثمان کو گالیاں دی جاتی ہیں حالانکہ قرآن یہ کہتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ ان کے متعلق دل میں کسی قسم کا بغض نہ ہو اور نہ صرف بغض نہ ہو بلکہ انسان محبت اور اخلاص کے ساتھ ان کے لئے ہمیشہ دُعائیں مانگتا رہے۔ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک شیعہ بادشاہ کے پاس ایک دفعہ ایک سنی بزرگ گئے اور اس سے امداد کے طالب ہوئے۔وہ آدمی نیک تھے مگر چونکہ ان کا گزارہ بہت مشکل سے ہوتا تھا اس لئے انہیں خیال آیا کہ میں بادشاہ کے پاس جاؤں اور اس سے کچھ مانگ لاؤں وہ گئے تو وہاں اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے جو اپنی حاجات کے لئے آئے ہوئے تھے مگر وہ سب شیعہ تھے اور یہ ستنی۔جب بادشاہ مال بانٹنے کے لئے کھڑا ہوا تو وزیر نے بادشاہ کے کان میں کچھ کہا اور اُس نے اس سنی بزرگ کے علاوہ باقی سب کو مال تقسیم کر دیا اور وہ ایک ایک کر کے رخصت ہو گئے۔یہ سنی بزرگ وہیں کھڑے رہے۔آخر جب انہیں کھڑے کھڑے بہت دیر ہو گئی تو بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ اسے بھی کچھ دیکر رخصت کر دو۔وزیر نے کہا میں دے تو دوں مگر یہ شخص شکل سے سنی معلوم ہوتا ہے بادشاہ نے کہا۔تمہیں کس طرح معلوم ہو ا وہ کہنے لگا بس شکل سے میں نے پہچان لیا ہے۔بادشاہ نے کہا اچھا تو اس کا امتحان کر لو۔چنانچہ وزیر نے حضرت علی کی فضیلت بیان کرنی شروع کر دی ، وہ سنی بزرگ بھی شوق سے سنتے رہے اور کہنے