سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 900

سیر روحانی — Page 211

۲۱۱ نام ہمیشہ احکام جاری ہوتے رہتے ہیں کہ اس پر ہماری رحمتیں نازل کرو ہماری رحمتیں نازل کرو اور دوسرا مقبرہ جنت میں، تیسرا مقبرہ دنیا کا ہے چنانچہ فرماتا ہے ہم تمہیں یہ ہدایت دیتے ہیں کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا۔اے مومنو! جب بھی تمہارے سامنے ہمارے رسول کا ذکر ہو تم کہو۔صلی اللہ علیہ وسلم - صلی اللہ علیہ وسلم۔انبیائے سابقین کے متبعین اور رسول اللہ اب دیکھو یہ بھی ایک مقبرہ ہے جو اللہ تعالٰی نے قائم کیا پھر چونکہ انبیاء علیہم السلام کے صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے مقبرے اتباع میں اتباع میں سے بھی بعض بڑے نیک اور بزرگ تھے اس لئے جہاں پہلے انبیاء کا ذکر کیا وہاں یہ بھی فرمایا وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَاِخْوَانِهِمْ یعنی ان کے باپ دادا، ان کی ذریت اور ان کے بھائی بھی ان انعامات میں شریک ہونگے۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ساتھی تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے مقبرے بھی قائم کئے اور فرمایا وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَاوَ لِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلُ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ و فرمایا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ساتھی ہیں ان کو ہم نے یہ رتبہ عطا فرمایا ہے کہ آئندہ کے لئے ہم نے یہ شرط قرار دیدی ہے کہ جو لوگ بعد میں آئیں ان میں سے کسی شخص کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا جب تک وہ ایمان لانے کے بعد ہمیشہ یہ دعا نہ کرتا رہے کہ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش اور ان کے بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے گویا ایمان کی تعمیل کے لئے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ روزانہ اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ اپنے سے پہلے مسلمانوں کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتا رہے۔پھر غَفَر کے معنی خالی گناہ کی معافی کے ہی نہیں بلکہ اصلاح حالات کے بھی ہوتے ہیں " اس لحاظ سے اس کے یہ معنے بھی ہونگے کہ اے ہمارے رب! ہمارے حالات کو بہتر سے بہتر بنا تا جا اور اسی طرح ان لوگوں کے حالات کو جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اور تیرے مؤمن تھے۔گویا نہ صرف خدا تعالیٰ نے گزشتہ زمانہ کے مؤمنوں کی یاد تازہ کی بلکہ یہ بھی سامان کئے کہ مقبرہ کی مرمت ہوتی رہے اور اس میں زیادتی ہوتی رہے اور اسے ہمیشہ پہلے سے زیادہ شاندار بنانے کی کوشش کی جائے کیونکہ جب مرنے کے بعد بھی اصلاح حالات کا امکان پایا جاتا ہے اور