سیر روحانی — Page 213
۲۱۳ لگے حضور ! حضرت علی کی شان میں کیا شبہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور آپ کے داماد تھے خدا تعالیٰ نے انہیں خلافت عطا فرمائی۔آپ کی شان سے تو انکار ہو ہی نہیں سکتا۔بادشاہ کہنے لگا اب تو ثابت ہو گیا کہ یہ شیعہ ہے، وزیر کہنے لگا ابھی نہیں میں بعض اور باتیں بھی دریافت کرلوں۔چنانچہ اُس نے اور کئی باتیں کیں ، مگر وہ بھی ان سب کی تصدیق کرتے چلے گئے بادشاہ نے کہا۔بس اب تو تمہیں یقین آ گیا ہو گا کہ یہ سنی نہیں بلکہ شیعہ ہے۔وزیر کہنے لگا ابھی نہیں۔تبڑا دیکر دیکھیں اگر یہ تبرے میں شامل ہو گیا تو پتہ لگ جائے گا کہ شیعہ ہے اور اگر شامل نہ ہو ا تو معلوم ہو جائے گا کہ سنی ہے۔چنانچہ بادشاہ نے کہا بر ہر سہ لعنت۔یعنی نَعُوذُ بِاللهِ حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان پر لعنت۔وزیر نے بھی کہا ہر ہر سہ لعنت۔وہ بزرگ سنی بھی بول اُٹھے کہ بر ہر سہ لعنت۔بادشاہ نے کہا اب تو یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ شیعہ ہے۔وزیر نے کہا حضور ! میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ یہ شخص منافقت سے کام لے رہا ہے۔وہ کہنے لگا اچھا تو پھر اس سے پوچھو کہ تم کون ہو۔وزیر نے پوچھا کہ کیا آپ شیعہ ہیں؟ وہ کہنے لگا نہیں میں تو سنیے ہوں۔وزیر کہنے لگا کہ مجھے آپ کی اور باتیں تو سمجھ آگئی ہیں کہ جب میں حضرت علیؓ کی تعریف کرتا تھا تو آپ اس لئے اس تعریف میں شامل ہو جاتے تھے کہ حضرت علی آپ کے نزدیک بھی واجب التعظیم ہیں مگر جب ہم نے یہ کہا کہ بر ہر سہ لعنت تو آپ نے بھی بر ہر سہ لعنت کہا، اس کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔وہ کہنے لگے جب آپ نے کہا تھا ہر ہر سہ لعنت ، تو آپ کی مراد تو یہ تھی کہ ابو بکر، عمر اور عثمان پر لعنت ہو مگر جب میں نے بر ہر سہ لعنت کہا تو میرا مطلب یہ تھا کہ وزیر پر بھی لعنت اور بادشاہ پر بھی اور مجھے پر بھی جو ایسے گندے لوگوں کے گھر میں آ گیا ہوں۔غرض شیعوں کا یہ طریق کہ صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں اور اکابر صحابہ کو منافق کہتے ہیں نا پسندیدہ اور مذکورہ بالا آیت قرآنی کے خلاف ہے حضرت علی کا درجہ بلند ماننے کے لئے اس کی کیا ضرورت ہے کہ حضرت ابو بکر ، عمر اور عثمان رضوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ کو منافق کہا جائے اس کے بغیر بھی شیعیت قائم رہ سکتی ہے۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم نہایت واضح طور پر فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے جو پاک بندے گزر چکے ہیں تمہیں ان کے متعلق دعاؤں سے کام لینا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ خدایا! ہمارے دلوں میں ان کے متعلق بغض پیدا نہ ہو کیونکہ اگر بغض پیدا ہوا تو ایمان ضائع ہو جائے گا گویا ہمیشہ کے لئے خدا نے اُن کے لئے دعاؤں کا سلسلہ جاری کر دیا اور اس طرح دنیا میں بھی ان کا