سیلابِ رحمت — Page 76
سیلاب رحمت جنت کو پیدا کرنا ہے جس سے انسانیت پھر کبھی باہر نہ نکالی جائے اور اس کے قیام سے ہم نے اخروی حیات کی جنت کا انعام پانا ہے۔اللہ تعالی کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ۔این است کام دل اگر آید میسرم مکرم مرز اعبد الرحیم بیگ صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے دعادی: کراچی لجنہ کی ممبرات نئی تاریخ لکھ رہی ہیں۔نامساعد حالات اور محدود وسائل کے باوجود مستقل مزاجی حوصلہ اور عزم و ہمت کے ساتھ اپنے مشن کو منزل مقصود بناتے ہوئے جو انقلابی کام شروع کر رکھے ہیں وہ بلا شبہ قابل مبارکباد ہیں۔یہ مثالیں آنے والی نسلوں کو قرون اولیٰ کی باہمت خواتین کی یاد دلاتی رہیں گی۔اللہ تعالی ان کی کوششوں کو ثمر بار کرے۔آمین یا رب العالمین۔“ راس سوونیئر میں میری درخواست پر لکھوایا ہوا حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفة امسیح الرابع کا ایک مختصر سا انشائیہ ہے جس میں حضور کے شب و روز کا بڑا پیارا عکس محفوظ ہو گیا ہے۔اس میں مقتدر رفقائے حضرت مسیح موعود کے دستخط ہیں۔اس مجلے کے لئے محترمہ نگار علیم صاحبہ نے لجنہ کراچی کی تاریخ ۱۹۳۷ء سے ۱۹۸۹ ء تک مرتب کی اور خاکسار نے ۱۹۸۱ء سے ۱۹۸۶ ء تک کی تاریخ قسمت کے شمار کے نام سے مرتب کی۔صدور لجنہ کراچی کا سال وار ذکر کیا۔یادرفتگاں کے عنوان سے دنیا سے رخصت ہو جانے والی کارکنات کو یاد کیا۔محسنات کے عنوان سے لجنہ کراچی کی نمایاں خدمت کرنے والی ممبرات کے نام محفوظ کئے گئے۔مکرمہ طاہرہ بیگم اشرف ناصر صاحب نے حضرت اماں جان نصرت جہاں 76